انڈونیشیا

انڈونیشیا کی برکس ممالک سے مقامی کرنسی لین دین اور سرحد پار ادائیگیوں میں تعاون بڑھانے کی اپیل

Read Time:2 Minute, 42 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: بینک انڈونیشیا نے برکس کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث معاشی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی کرنسیوں میں لین دین (LCT) کو تیز کریں اور سرحد پار ادائیگیوں کے باہمی رابطے کو مزید مستحکم بنائیں۔

9 اور 10 ستمبر کو بھارت کے شہر ممبئی میں منعقد ہونے والے برکس وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بینک انڈونیشیا کی گورنر ڈیسٹری دامایانتی نے کہا کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کے تناظر میں مالیاتی استحکام برقرار رکھنا اور اقتصادی ترقی کے نئے ذرائع تلاش کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا برکس کو ایک ایسا اسٹریٹجک پلیٹ فارم سمجھتا ہے جہاں عالمی چیلنجز کو عملی تعاون کے ذریعے اجتماعی لچک اور معاشی مضبوطی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بالخصوص مقامی کرنسیوں میں لین دین اور سرحد پار ادائیگیوں کے رابطے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ رکن ممالک کی ترقی کی مختلف سطحوں اور قومی ترجیحات کو بھی مدنظر رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔

اجلاس کے موقع پر ڈیسٹری دامایانتی نے ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے بھی ملاقات کی، جس میں انڈونیشیا اور بھارت کے درمیان مالیاتی انضمام کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مذاکرات میں انڈونیشیا اور بھارت کے درمیان مقامی کرنسی لین دین کے فریم ورک کو وسعت دینے، مقامی کرنسیوں پر مبنی دوطرفہ تبادلہ انتظام (LCBSA) کے قیام اور دونوں ممالک کے سرحد پار کیو آر کوڈ ادائیگی کے نظام کو باہم منسلک کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

بینک انڈونیشیا کے مطابق، یہ دوطرفہ بات چیت برکس کے وعدوں کو عملی اقتصادی اور مالیاتی روابط میں تبدیل کرنے کی جانب ایک ٹھوس قدم ہے، جس سے شریک ممالک کو باہمی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں انڈونیشیا کی نمائندگی نائب وزیر خزانہ جودا آگونگ نے بھی کی۔

اجلاس میں برکس کے رکن ممالک، جن میں انڈونیشیا، برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا اور ایران شامل ہیں، کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر شرکا نے ایک مشترکہ اعلامیے کی منظوری دی، جس میں ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر لچک، پائیدار مالیات اور مقامی کرنسیوں کے وسیع تر استعمال سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کے ذریعے عالمی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

برکس رکن ممالک نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی حمایت بھی دہرائی، جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے انتظامی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں شامل ہیں جن کا مقصد ترقی پذیر ممالک کی آواز اور نمائندگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

بینک انڈونیشیا نے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ عالمی اقتصادی اور مالیاتی نظام میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے تناظر میں مسلسل مذاکرات اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

بینک انڈونیشیا اور انڈونیشی حکومت کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے ذریعے ملک بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے ایسے اقدامات میں اپنا کردار جاری رکھے گا جن کا مقصد قومی ترجیحات کے تحفظ کے ساتھ جامع اور عملی نتائج کا حصول، جبکہ طویل مدتی اقتصادی اور مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے وفاقی و صوبائی تعاون پر زور
مراکش Next post مراکش کا یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ