
یوکرین میں یورپی نیٹو افواج کی تعیناتی روس سے براہِ راست جنگ ہوگی، پیوٹن
ماسکو، یورپ ٹوڈے: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یورپی نیٹو رکن ممالک کی جانب سے یوکرین میں فوجی دستوں کی تعیناتی نیٹو ممالک اور روس کے درمیان براہِ راست جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔
نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ یورپ کو درپیش موجودہ سیاسی اور معاشی مشکلات بقول ان کے، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپی رہنماؤں کی خارجہ، سلامتی اور اقتصادی پالیسیوں میں کی جانے والی ’’نظامی غلطیوں‘‘ کا نتیجہ ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ مغربی سیاسی اشرافیہ اس تاثر کا شکار ہوگئی کہ ان سے غلطی نہیں ہوسکتی، تاہم ان کی پالیسیوں کے نتائج وقت کے ساتھ جمع ہوتے گئے۔ انہوں نے خاص طور پر نیٹو کی مشرقی سمت توسیع اور یوکرین کو اتحاد میں شامل کرنے کی مغربی کوششوں کو ان عوامل میں شمار کیا جنہیں ماسکو موجودہ تنازع کی بنیادی وجوہات میں سمجھتا ہے۔
روسی صدر کے مطابق یورپی حکومتیں ایک جانب اپنی عوام کو روس کی جانب سے مبینہ خطرے سے خبردار کر رہی ہیں جبکہ دوسری جانب ایسی پالیسیاں اختیار کر رہی ہیں جو یورپ کو روس کے ساتھ براہِ راست تصادم کے قریب لے جا سکتی ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ روس یورپی ممالک کو دھمکی نہیں دے رہا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی نیٹو کے بعض رکن ممالک کی جانب سے یوکرین میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کی تجاویز صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرینی سرزمین پر فوجی دستے بھیجنے سے متعلق اقدامات روس کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے مترادف ہوں گے۔
ماسکو یوکرین میں نیٹو اہلکاروں کی تعیناتی کی متعدد بار مخالفت کرچکا ہے، خواہ یہ تعیناتی مجوزہ سکیورٹی ضمانتوں یا امن مشن کے تحت ہی کیوں نہ ہو۔ روسی حکام کا مؤقف بھی رہا ہے کہ کسی وسیع تر سیاسی تصفیے کے بغیر عارضی جنگ بندی یوکرینی افواج کو اپنی فوجی صلاحیتیں دوبارہ مستحکم کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ یورپی عوام موجودہ پالیسیوں کے ممکنہ نتائج سے بتدریج آگاہ ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول، براعظم بھر میں سیاسی تبدیلیاں عوامی عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں جرمنی کی علاقائی سیاست میں آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) جماعت کی حالیہ انتخابی پیش رفت بھی شامل ہے۔
روسی صدر نے جرمنی کی داخلی سیاسی صورتحال پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں وسیع تر سیاسی رجحانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام براعظم کی موجودہ قیادت کی اختیار کردہ پالیسیوں اور سمت سے بڑھتی ہوئی ناخوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔