بیلجیم میں توانائی کی منتقلی کا آغاز مقامی سطح سے: برسلز کے علاقے سینٹ جیل میں شہری سولر منصوبہ مثال بن گیا

بیلجیم میں توانائی کی منتقلی کا آغاز مقامی سطح سے: برسلز کے علاقے سینٹ جیل میں شہری سولر منصوبہ مثال بن گیا

Read Time:3 Minute, 23 Second

برسلز، یورپ ٹوڈے: بیلجیم میں بجلی کی بلند قیمتوں اور توانائی کے بحران کے پس منظر میں برسلز کی بلدیہ سینٹ جیل اور شہریوں کی توانائی کوآپریٹو "بروپاور” کا مشترکہ چھتوں پر سولر منصوبہ اس امر کی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ مقامی حکومتیں، کوآپریٹو ادارے اور عام شہری مل کر بجلی کے بلوں اور کاربن کے اخراج دونوں میں کمی لا سکتے ہیں۔

بیلجیم کا شمار یورپی یونین کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بجلی سب سے مہنگی ہے۔ یورپی شماریاتی ادارے یوروسٹیٹ کے مطابق 2025 میں بیلجیم میں بجلی کی قیمت 34.99 یورو فی 100 کلو واٹ آور رہی، جو آئرلینڈ اور جرمنی کے بعد یورپ میں تیسری بلند ترین شرح تھی۔ رواں موسمِ گرما میں آبنائے ہرمز کی بندش اور شدید گرمی کے دوران ٹھنڈا کرنے کے لیے پانی کی کمی کے باعث جوہری بجلی گھروں کی بندش نے قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا۔

کووڈ وبا کے دوران آن لائن ملاقاتوں سے جنم لینے والی کوآپریٹو بروپاور اب تک ساڑھے چھ لاکھ یورو جمع کر کے برسلز بھر میں ایک ہزار سے زائد سولر پینل نصب کر چکی ہے۔ ادارے کے شریک بانی سیباستیاں موتوئی کے مطابق ان کا مقصد صاف توانائی پیدا کر کے شہریوں کو مستحکم قیمت پر فراہم کرنا ہے۔ 2024 میں ریگولیٹر کی منظوری کے بعد کوآپریٹو 29 یورو فی 100 کلو واٹ آور کی مقررہ قیمت پر بجلی فراہم کر رہی ہے، جو بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد سستی ہے۔ اس وقت برسلز کی 19 میں سے 11 بلدیات میں اس کے منصوبے جاری ہیں، جن میں سینٹ جیل کا میونسپل اسپورٹس سینٹر بھی شامل ہے۔

سینٹ جیل کی کونسلر برائے توانائی، موسمیات و حیاتیاتی تنوع لوئس سالومیز کا کہنا ہے کہ توانائی کی منتقلی صرف فوسل فیول سے نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ توانائی کی غربت جیسے سماجی مسائل کے حل کا موقع بھی ہے۔ کنگ بادوین فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں برسلز کے تقریباً 23 فیصد باشندے توانائی کی غربت کا شکار تھے۔ ابتدا میں شہریوں کی دلچسپی کم رہی، تاہم بلدیہ کی جانب سے یہ وضاحت کیے جانے کے بعد کہ کرایہ دار بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور حصص محض 50 یورو سے شروع ہوتے ہیں، شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کوآپریٹو اب اسکولوں، گرجا گھروں اور رہائشی عمارتوں پر بھی پینل نصب کرنے کے ساتھ ساتھ "سولر اسٹریٹس” کے تصور پر کام کر رہی ہے۔

یورپی سطح پر اس وقت 8 ہزار سے زائد توانائی کمیونٹیز موجود ہیں۔ یورپی کمیشن نے اپریل 2026 میں جاری کردہ ایکشن پلان میں 2030 تک ان کمیونٹیز کی نصب شدہ صلاحیت کو دس گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم یورپی کورٹ آف آڈیٹرز کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 تک ہر دس ہزار سے زائد آبادی والی بلدیہ میں کم از کم ایک توانائی کمیونٹی کے ہدف کا صرف 27 فیصد حاصل ہو سکا، اور ادارے نے واضح قوانین اور بہتر مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مجموعی طور پر قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بیلجیم یورپی یونین میں پیچھے ہے، جہاں توانائی کا صرف 15 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوتا ہے اور اس کا درجہ لکسمبرگ کے بعد سب سے نیچے ہے۔ البتہ کمیونٹی توانائی کے میدان میں بیلجیم کی کارکردگی بہتر ہے اور وہ ان پانچ رکن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس حوالے سے یورپی تعریف کو کامیابی سے ملکی قانون کا حصہ بنایا ہے۔ فلینڈرز میں 1991 میں قائم ہونے والی کوآپریٹو "ایکو پاور” آج 60 ہزار سے زائد شہری سرمایہ کاروں کے ساتھ تقریباً 55 ہزار گھرانوں کو بجلی فراہم کر رہی ہے۔

سیباستیاں موتوئی نے وفاقی سطح پر شہری توانائی کے لیے حمایت میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق سینٹ جیل جیسے منصوبے، اگرچہ حجم میں محدود ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقامی چھتوں پر پیدا ہونے والی، مقامی شہریوں کی سرمایہ کاری سے چلنے والی اور پڑوسیوں کے استعمال میں آنے والی بجلی بیلجیم کی سبز توانائی کی جانب منتقلی کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا ڈی آئی خان آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین