
پاکستان میں تین کروڑ 24 لاکھ افراد ذہنی امراض کا شکار، ایک کروڑ 29 لاکھ ہیپاٹائٹس میں مبتلا
وزارت قومی صحت کی قومی اسمبلی میں رپورٹ: ملک میں 4 لاکھ 17 ہزار سے زائد افراد ایچ آئی وی سے متاثر، 3900 بچے بھی شامل
اسلام آباد: وزارت قومی صحت نے قومی اسمبلی میں ذہنی امراض، ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے ہیں، جن کے مطابق ملک کی 25 کروڑ آبادی میں سے تین کروڑ 24 لاکھ افراد ذہنی امراض، ایک کروڑ 29 لاکھ ہیپاٹائٹس بی اور سی، جبکہ 4 لاکھ 17 ہزار سے زائد افراد ایچ آئی وی/ایڈز کا شکار ہیں۔
ذہنی امراض
رپورٹ کے مطابق 2019ء میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد تین کروڑ تھی جو 2023ء میں بڑھ کر تین کروڑ 24 لاکھ تک پہنچ گئی، یوں پانچ برس کے دوران مریضوں کی تعداد میں 24 لاکھ کا اضافہ ہوا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ذہنی امراض کا شکار شہریوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کو ماہرینِ نفسیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ قومی سطح پر صرف 1050 ماہرینِ نفسیات رجسٹرڈ ہیں، اور دو لاکھ 45 ہزار سے زائد شہریوں کے لیے محض ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبر پختونخوا میں 122 اور بلوچستان میں 44 ماہرینِ نفسیات رجسٹرڈ ہیں۔
ہیپاٹائٹس
وزارت صحت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ اس مرض سے ہونے والی اموات کے اعتبار سے سرفہرست دس ممالک میں شامل ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد 90 لاکھ اور ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد 38 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر سال 48 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ 2024ء میں ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے۔
ایچ آئی وی/ایڈز
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 4 لاکھ 17 ہزار سے زائد افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، جن میں سے 92 ہزار 148 رجسٹرڈ ہیں اور 67 ہزار 878 افراد اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2010ء میں ایچ آئی وی کے سالانہ نئے کیسز کی تعداد 16 ہزار تھی جو 2024ء میں بڑھ کر 48 ہزار ہو گئی۔ اسی دوران اسکریننگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور 2020ء میں 37 ہزار 944 کے مقابلے میں 2025ء میں 3 لاکھ 74 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی۔
بچوں میں ایچ آئی وی
دستاویز کے مطابق جنوری 2025ء سے جون 2026ء کے دوران ایچ آئی وی سے متاثرہ 3900 بچے رجسٹرڈ کیے گئے، جن میں سندھ سرفہرست ہے۔ سندھ میں 1915، پنجاب میں 1765، خیبر پختونخوا میں 139 اور بلوچستان میں 46 بچے ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے، جبکہ اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک بچے میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔