ویتنام

ویتنام کا عالمی اور قومی سطح پر قانون کی حکمرانی کے فروغ کے عزم کا اعادہ

Read Time:4 Minute, 3 Second

نیویارک، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے قومی سطح پر قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کے تحفظ کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں ویتنام کے مستقل نمائندے سفیر ڈو ہنگ ویت نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی قانونی کمیٹی کے 81ویں اجلاس کے دوران کہی، جو 7 سے 10 اکتوبر تک جاری رہا۔ اجلاس میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کے موضوع پر غور کیا گیا۔

سفیر ڈو ہنگ ویت نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کی مؤثریت اور ساکھ اس امر پر منحصر ہے کہ ریاستیں اس کی تشریح اور اطلاق نیک نیتی، مستقل مزاجی اور بلاامتیاز کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس اصول کا اطلاق اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں پر بھی ہوتا ہے، جن میں ریاستوں کی خودمختار مساوات، علاقائی سالمیت کا احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی ممانعت، تنازعات کا پُرامن حل اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی نیک نیتی سے تکمیل شامل ہیں۔ ان اصولوں پر عمل درآمد محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

سمندری امور کا ذکر کرتے ہوئے ویتنامی سفیر نے کہا کہ سمندر سے متعلق تمام سرگرمیوں کے لیے اقوام متحدہ کا 1982 کا کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بحری حدود سے متعلق تمام دعوؤں، سرگرمیوں اور تنازعات کے حل، بشمول مشرقی سمندر کے تنازعات، کو UNCLOS کی دفعات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، تنازعات کے حتمی حل تک متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا، اختلافات کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھالنا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صورت حال کو مزید کشیدہ یا پیچیدہ بنا سکتے ہوں۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ویتنام میں قانون سازی اور قوانین کے نفاذ کے نظام میں اصلاحات کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ویتنام میں ہزاروں قانونی دستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان میں ترمیم، تبدیلی یا منسوخی کے ذریعے قانونی تضادات اور غیر ضروری پیچیدگیوں کو دور کیا جا سکے اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ فوجداری اور ماہی گیری سے متعلق قوانین میں بہتری، کاپی رائٹ اور دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور شہریوں و کاروباری اداروں تک قانونی معلومات کی رسائی بڑھانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

سفیر کے مطابق، ویتنام نے اپنے قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ذاتی معلومات کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق ضوابط بھی متعارف کرائے ہیں۔ ملک نے قومی قانونی ڈیٹا بیس کو جدید بنایا ہے اور قانونی معلومات، تعلیم اور معاونت تک عوام کی رسائی بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو وسعت دی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کے فروغ میں ویتنام کی شراکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویتنام اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد سائبر کرائم، جسے ہنوئی کنونشن بھی کہا جاتا ہے، کی توثیق کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ویتنام قومی دائرہ اختیار سے ماورا سمندری علاقوں میں بحری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال سے متعلق معاہدے (BBNJ Agreement) پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد کی تیاری کر رہا ہے اور بین الاقوامی قانونی فورمز اور اداروں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

اجلاس میں شریک نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی امن، سلامتی، بین الاقوامی تعاون اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے تنازعات کے پُرامن حل، انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام تک رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

شرکاء نے بین الاقوامی قانون کی تدوین اور اس کی تدریجی ترقی میں اقوام متحدہ کے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے چھٹی قانونی کمیٹی اور رکن ممالک کے درمیان بامقصد مکالمے اور بروقت تبادلۂ خیال کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کی تشکیل میں مختلف خطوں اور قانونی نظاموں کے نقطۂ نظر اور قانونی روایات کی عکاسی ہونی چاہیے، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی شراکت کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی قانونی کمیٹی جنرل اسمبلی کی چھ اہم کمیٹیوں میں سے ایک ہے، جس میں تمام 193 رکن ممالک شامل ہیں۔ یہ کمیٹی قانونی امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی تدوین اور اس کی تدریجی ترقی کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 2006 سے ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کے موضوع کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرتی آ رہی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مراکش Previous post مراکش اور افریقی ممالک میں جدید سرحدی سکیورٹی نظام متعارف کرانے کے لیے کینیڈین کمپنیوں میں شراکت داری
گورنر Next post گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا صدارتی اعلان کا خیرمقدم، امن و استحکام کے عزم کا اظہار