ویتنام

ویتنام اور پاناما کا تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

Read Time:2 Minute, 54 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام نے منگل کو ہنوئی میں پاناما کے صدر خوسے راؤل مولینو سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات پاناما کے صدر کے اعزاز میں منعقدہ باضابطہ استقبالیہ تقریب کے بعد ہوئی۔

مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، بحری امور، ہوا بازی، لاجسٹکس، ٹیلی کمیونیکیشن، بنیادی ڈھانچے، بینکاری، سیاحت، ثقافت، تعلیم اور ڈیجیٹل تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

صدر تو لام نے پاناما کے صدر کے دورہ ویتنام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 14 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان کسی سربراہ مملکت کا پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام پاناما کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور علاقائی و عالمی سطح پر پاناما کے اہم تزویراتی کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحرک معیشت، پاناما کینال اور بحری، فضائی، لاجسٹکس اور مالیاتی مراکز کے باعث پاناما، ویتنام کے ساتھ مل کر جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکا کے درمیان تجارت اور لاجسٹکس کے لیے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

پاناما کے صدر خوسے راؤل مولینو نے 1979 میں پاناما کینال کی مستقل غیرجانبداری اور آپریشن سے متعلق معاہدے کے پروٹوکول پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے پر ویتنام کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ’’دوئی موی‘‘ (اصلاحات و تجدید) کے عمل کے دوران ویتنام کی کامیابیوں کو بھی سراہتے ہوئے ویتنام کو ایشیا بحرالکاہل خطے میں پاناما کا ترجیحی شراکت دار قرار دیا۔

دونوں رہنماؤں نے پارٹی، ریاستی، پارلیمانی اور عوامی سطح پر اعلیٰ سطحی روابط مزید فروغ دینے، سفارتی و قونصلر تعاون مضبوط بنانے اور موجودہ دوطرفہ میکنزمز، بالخصوص سیاسی مشاورت اور اقتصادی، تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کے لیے مشترکہ کمیشن سے مؤثر استفادہ کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے اپنے مقامی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا، بالخصوص ہوچی منہ سٹی اور پاناما سٹی کے درمیان مالیاتی مراکز، بندرگاہوں سے منسلک لاجسٹکس سہولیات اور بانڈڈ ویئر ہاؤسز کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

فریقین نے سلامتی اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے، خصوصاً بین الاقوامی جرائم کی روک تھام اور انسداد کے لیے مشترکہ کوششیں بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بین الاقوامی اور کثیرالجہتی امور کے حوالے سے ویتنام اور پاناما نے بین الاقوامی تنظیموں اور فورمز میں باہمی رابطہ اور ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے بحری و فضائی آمدورفت کی آزادی اور سلامتی کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون، بالخصوص 1982ء کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اظہار کیا۔

پاناما کے صدر خوسے راؤل مولینو نے صدر تو لام کو پاناما کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جس کا ویتنامی صدر نے خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کو مناسب وقت پر دورے کے انتظامات کے لیے رابطہ کاری کی ہدایت کی۔

صدر مولینو کا ویتنام کا سرکاری دورہ 5 سے 8 اکتوبر 2026ء تک جاری ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک نے بحری نقل و حمل، بین الاقوامی جرائم کے انسداد، زراعت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کے تبادلے کا بھی مشاہدہ کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
اقوام متحدہ Next post اقوام متحدہ میں مراکش کے صحارا خودمختاری منصوبے کی عالمی حمایت میں اضافہ