
انڈونیشیا کا افریقی ممالک کے ساتھ اقتصادی خودمختاری، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے افریقی ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقتصادی خودمختاری، انسانی وسائل کی ترقی اور تجارت و سرمایہ کاری میں عملی شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ انڈونیشیا نے اس عزم کو ایشیائی و افریقی یکجہتی کے اصولوں اور تاریخی جذبۂ بانڈونگ سے وابستہ قرار دیا۔
یہ بات اقوام متحدہ میں انڈونیشیا کے مستقل نمائندے عمر ہادی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے 18ویں مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں افریقہ کی پائیدار ترقی میں ہونے والی پیش رفت اور براعظم کو بین الاقوامی معاونت فراہم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بدھ کو موصول ہونے والے ایک بیان کے مطابق عمر ہادی نے کہا کہ انڈونیشیا یکجہتی اور باہمی احترام کی بنیاد پر افریقہ کے ساتھ شراکت دار کی حیثیت سے کھڑا ہے۔
اجلاس میں افریقہ کی پائیدار ترقی کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ براعظم کے ممالک نیو پارٹنرشپ فار افریقاز ڈیولپمنٹ سے افریقی یونین کے ایجنڈا 2063 کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایک خوشحال، مربوط اور پُرامن افریقہ کی تشکیل ہے۔
عمر ہادی نے اپنے خطاب میں 1955ء میں انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں منعقدہ ایشیائی و افریقی کانفرنس میں صدر سوئیکارنو کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی کانفرنس میں ایشیائی اور افریقی ممالک کے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق پر زور دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس تاریخی کانفرنس کے سات دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایشیا اور افریقہ کے ممالک نے نمایاں ترقی کی ہے اور عالمی ترقی کی سمت متعین کرنے میں ان کا کردار مسلسل اہم ہو رہا ہے۔
انڈونیشیائی نمائندے نے افریقہ کی اقتصادی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ 2025ء میں براعظم کی معیشت کی شرح نمو 4.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، جبکہ 22 افریقی ممالک کی اقتصادی ترقی کی شرح پانچ فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع تھی۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار افریقہ کی معاشی لچک اور ایجنڈا 2063 کے اہداف حاصل کرنے کی وسیع صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ افریقی ممالک کو اب بھی کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں قرضوں پر بلند شرح سود، ترقیاتی مالی وسائل تک محدود رسائی اور قدرتی وسائل سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل کرنے کی ضرورت شامل ہیں۔
عمر ہادی نے پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے اور انڈونیشیا و افریقہ کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے تین اہم ترجیحات کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ پہلی ترجیح قدرتی وسائل کی مقامی سطح پر پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اقتصادی خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے انڈونیشیا کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خام مال کو مقامی صنعتوں کے ذریعے تیار مصنوعات میں تبدیل کرنے سے زیادہ اقتصادی قدر پیدا کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق دوسری ترجیح انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو پائیدار ترقی کی بنیاد بنانا ہے، جس کے لیے تعلیم، زرعی تربیت اور فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں کی ترقی میں تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیسری ترجیح جذبۂ بانڈونگ کو تجارت، سرمایہ کاری اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ٹھوس شراکت داریوں میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ دونوں خطے مشترکہ ترقیاتی اہداف حاصل کر سکیں۔
انڈونیشیا کے نمائندے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران افریقی ممالک کے ساتھ اپنے ترقیاتی تعاون کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کے جنوبی-جنوبی اور سہ فریقی تعاون کے پروگراموں کے تحت 60 سے زائد منصوبوں سے تقریباً 500 افریقی شرکا مستفید ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں میں صحت عامہ، زرعی ٹیکنالوجی اور مویشیوں کی افزائش سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ کے ساتھ انڈونیشیا کی اقتصادی شراکت داری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2018ء میں منعقدہ پہلے انڈونیشیا-افریقہ فورم کے نتیجے میں تقریباً 600 ملین امریکی ڈالر کے کاروباری معاہدے طے پائے، جبکہ 2019ء میں انڈونیشیا-افریقہ انفراسٹرکچر ڈائیلاگ کے دوران 800 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدے ہوئے۔
اسی طرح 2024ء میں منعقدہ دوسرے انڈونیشیا-افریقہ فورم کے نتیجے میں مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں 3.5 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے 32 تعاون کے معاہدے طے پائے۔
عمر ہادی کے خطاب نے ایک بار پھر اس عزم کی توثیق کی کہ انڈونیشیا باہمی مفادات پر مبنی تعاون، پائیدار اقتصادی ترقی اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کے ذریعے افریقی ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید گہرا کرے گا، جبکہ یکجہتی اور باہمی احترام کے ان اصولوں کو برقرار رکھا جائے گا جو جذبۂ بانڈونگ کی بنیاد ہیں۔