ویتنام

ویتنامی قومی برانڈز کو معیشت کی مسابقتی قوت بنانے کی ضرورت ہے، وزیراعظم لی من ہنگ

Read Time:5 Minute, 33 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیراعظم لی من ہنگ نے ملکی کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ قومی برانڈز کو معیشت کے لیے ایک اہم مسابقتی قوت میں تبدیل کریں اور کم لاگت کی بنیاد پر مسابقت کے بجائے ویلیو کری ایشن، جدت طرازی اور عالمی ویلیو چینز میں مؤثر شمولیت پر توجہ مرکوز کریں۔

وزیراعظم نے یہ بات 16 اکتوبر کو ہنوئی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں 2026 کے لیے ویتنام نیشنل برانڈ کا اعزاز حاصل کرنے والی مصنوعات کا اعلان کیا گیا۔ تقریب کا اہتمام ویتنام نیشنل برانڈ کونسل اور وزارت صنعت و تجارت نے کیا تھا۔

رواں سال مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 227 کاروباری اداروں کی 499 مصنوعات کو یہ اعزاز دیا گیا۔ ان شعبوں میں صنعت و پیداوار، زراعت و خوراک، ادویات، طبی آلات، مالیات، بینکاری، ٹیلی کمیونیکیشن، ٹیکنالوجی، نقل و حمل، لاجسٹکس، تجارت اور خدمات شامل ہیں۔

ویتنام نیشنل برانڈ پروگرام، جسے ویتنام ویلیو بھی کہا جاتا ہے، گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران کاروباری اداروں کے لیے مشترکہ معیارات متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان معیارات میں صرف برانڈ کی تشہیر اور شناخت ہی نہیں بلکہ مصنوعات کا معیار، کارپوریٹ نظم و نسق، تکنیکی صلاحیت، جدت طرازی، مارکیٹ کی ضروریات سے مطابقت اور سماجی ذمہ داری بھی شامل ہیں۔

قومی برانڈ کا اعزاز حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد 2008 میں 30 سے بڑھ کر 2026 میں 227 ہو گئی ہے، جو سات گنا سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ چودہ کاروباری ادارے انتخاب کے تمام 10 ادوار میں یہ اعزاز برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، جبکہ 84 ادارے کم از کم پانچ مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

ویتنام کی قومی برانڈ ویلیو 2026 میں تقریباً 462.28 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2020 کے مقابلے میں 45.14 فیصد زیادہ ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ویتنام 193 ممالک میں 32ویں نمبر پر رہا۔ قومی برانڈ کی حامل پانچ کمپنیاں ملک کے 10 قیمتی ترین برانڈز میں بھی شامل ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت میں ان کا حصہ تقریباً 69.1 فیصد رہا۔

2026 کے انتخابی عمل میں نظرثانی شدہ معیارات متعارف کرائے گئے، جن میں جدت طرازی، تحقیق و ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال، دانشورانہ ملکیت، ڈیجیٹل تبدیلی، ماحول دوست ترقی اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مجموعی جائزے میں جدت طرازی کو 30 فیصد وزن دیا گیا۔

اعزاز حاصل کرنے والے اداروں کو مبارک باد دیتے ہوئے وزیراعظم لی من ہنگ نے کہا کہ یہ کامیابیاں کاروباری اداروں کی ثابت قدمی، تخلیقی صلاحیتوں، مہارت اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ ان میں ویتنامی کاروباری شخصیات، اداروں اور کارکنوں کی خدمات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ قومی برانڈ کا اعزاز محض باعثِ فخر نہیں بلکہ صارفین کے ساتھ ایک عہد اور ملک کی ساکھ کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے مطابق ویتنامی برانڈز کی حامل مصنوعات کو معیار، اعتبار اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ برانڈ صرف کسی ایک کمپنی کا اثاثہ نہیں ہوتا بلکہ یہ قومی مسابقت، ساکھ اور بین الاقوامی مقام کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مضبوط برانڈز کامیاب کاروباری اداروں کی بنیاد بنتے ہیں، جبکہ مسابقتی ادارے قومی معیشت کی خودمختاری اور استحکام کو تقویت دیتے ہوئے ملک کی طویل مدتی خوشحالی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ویتنام کے ترقیاتی اہداف کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک اقتصادی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے تحت 2026 سے 2030 کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی سالانہ اوسط شرح نمو کم از کم 10 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ترقیاتی ماڈل میں جامع اصلاحات اور معیشت کی استعداد، معیار اور مسابقت بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور ڈیجیٹل تبدیلی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران ویتنام کی جی ڈی پی میں سالانہ بنیادوں پر 9.01 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تیسری سہ ماہی میں شرح نمو 9.95 فیصد رہی۔ ملک کی مجموعی درآمدات و برآمدات کا حجم رواں سال تقریباً 1.1 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو پہلی مرتبہ ایک ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کرے گا۔

ویتنام 2026 کے عالمی جدت طرازی اشاریے میں 139 معیشتوں میں 43ویں نمبر پر بھی رہا۔ مزید برآں، مجموعی تجارتی اشیا میں ہائی ٹیک اور تخلیقی مصنوعات کی برآمدات کے تناسب کے لحاظ سے ملک عالمی سطح پر سرفہرست رہا۔

وزیراعظم کے مطابق یہ کامیابیاں ویتنامی کاروباری اداروں، بالخصوص معیار، ٹیکنالوجی اور برانڈ کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی اہم خدمات کا نتیجہ ہیں۔

تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں اب بھی بہت سی معیاری مقامی مصنوعات مضبوط برانڈ شناخت سے محروم ہیں، جبکہ ملکی سطح پر اضافی قدر پیدا کرنے اور منڈیوں پر کنٹرول کے حوالے سے بھی محدودیت موجود ہے۔ قومی برانڈ کا اعزاز رکھنے والے اداروں کی برآمدات ان کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 11 فیصد ہیں، جو ویتنام کی مجموعی برآمدات کے لگ بھگ 2.3 فیصد کے برابر ہیں۔

انہوں نے تحقیق، بنیادی ٹیکنالوجیز اور دانشورانہ ملکیت کے تحفظ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ جعلی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی اسٹریٹجک قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ نجی کاروباری اداروں کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بنانے اور سرکاری اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے ملک پر زور دیا کہ وہ کم لاگت کی بنیاد پر مسابقت سے آگے بڑھ کر حقیقی قدر پیدا کرنے، محض پروسیسنگ اور اسمبلی سے نکل کر ڈیزائن اور جدت طرازی کی جانب پیش رفت کرنے اور عالمی منڈیوں میں صرف شریک ہونے کے بجائے قائدانہ مقام حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائے۔

وزیراعظم نے بالخصوص قومی سطح پر تسلیم شدہ برانڈز کے حامل کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ حکومتی اسٹریٹجک پالیسیوں پر عمل درآمد میں قائدانہ کردار ادا کریں، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں، ملکی سطح پر اضافی قدر پیدا کرنے کے عمل کو وسعت دیں، اپنی مارکیٹ میں حصہ داری بڑھائیں اور عالمی ویلیو چینز میں مزید گہرائی کے ساتھ شامل ہوں۔

انہوں نے سرکردہ کاروباری اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے برانڈز کو طویل مدتی اسٹریٹجک اثاثہ سمجھیں اور مصنوعات کے معیار، کارپوریٹ نظم و نسق اور سماجی ذمہ داری کے حوالے سے اعلیٰ معیارات اپنائیں، تاکہ عالمی سطح پر ویتنامی برانڈز کی ساکھ اور مسابقت مزید مستحکم ہو سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف سے نئے سعودی سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ
ترکمانستان Next post ترکمانستان کا بے وطنی کے خاتمے اور انسانی ہمدردی کے امور میں عالمی تعاون کے عزم کا اعادہ