شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا انتہائی غریب اور سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے خصوصی امدادی پیکج شروع کرنے کا اعلان

Read Time:4 Minute, 31 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو غربت سے نکالنے کے لیے جامع امدادی پیکج پر مشتمل خصوصی اقدام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک خوشحال ملک بنانے کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید ضروری ہے، جہاں معاشرے کے کسی بھی فرد یا طبقے کو ترقی کے ثمرات سے محروم نہ رکھا جائے۔

غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ غربت کا خاتمہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مقامی برادریوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے غربت کے خاتمے، عدم مساوات میں کمی اور ترقی کے مساوی مواقع یقینی بنانے کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مربوط، مؤثر اور عملی اقدامات کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال غربت کے خاتمے کا عالمی دن اقوام متحدہ کی 2026 سے 2028 تک جاری رہنے والی تین سالہ مہم کے تحت منایا جا رہا ہے، جس کا موضوع ’’امن اور انسانی حقوق کے لیے متحد‘‘ ہے، جبکہ 2026 کا ذیلی موضوع ’’سب کے لیے محفوظ گھر‘‘ مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ موضوعات غربت کے خاتمے اور ایک پُرامن و منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اقتصادی خوشحالی، خوراک کی مناسب فراہمی اور محفوظ رہائش غربت میں کمی کے بنیادی نتائج میں شامل ہیں، جبکہ محفوظ اور باوقار رہائش شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کی اپنی گھر اسکیم کے تحت آسان مالیاتی سہولتوں کے ذریعے بالخصوص معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے سستے گھروں تک رسائی آسان بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، بالخصوص سیلاب اور شدید بارشیں بھی رہائش کی قلت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ اسکیم کے تحت سستے گھروں کی تعمیر اور خریداری کے لیے مالی معاونت تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کو فروغ دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور آئین پاکستان ایک فلاحی ریاست کے قیام کے قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ذمہ داری کی تکمیل کے لیے حکومت ایک مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں سماجی تحفظ کو انسانی ترقی، مہارتوں میں اضافے، روزگار کے مواقع، ذریعہ معاش اور معاشی خودمختاری کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت مستحق افراد کو براہ راست مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو مزید مضبوط اور مستحکم بنا رہی ہے۔ قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری اور ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹ کا اجرا مستحقین کو استحصال سے محفوظ رکھنے اور امداد کی فراہمی میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے امداد کی تقسیم سے مستحق افراد کی درست نشاندہی، مالی معاونت کی شفاف فراہمی اور مالیاتی نظام میں شمولیت کو مزید تقویت ملی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کو پائیدار ذرائع معاش کے قیام میں مدد دینے کے لیے حکومت تعلیم تک مساوی رسائی اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ دانش اسکولز سسٹم کے ذریعے ملک بھر کے باصلاحیت بچوں کو ان کے سماجی و معاشی پس منظر سے قطع نظر معیاری تعلیم اور جامع نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے طبقاتی فرق کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کو مزید مستحکم کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر کے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ تکنیکی صلاحیتوں اور مارکیٹ میں قابلِ قدر مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’باعزت روزگار، کاروبار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے معاشی امکانات ہی غربت کے خاتمے کی حقیقی ضمانت ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام، ’’اڑان پاکستان‘‘، پاکستان بیت المال اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ سمیت مختلف اقدامات کا مقصد ذرائع معاش بہتر بنا کر اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرکے غربت میں کمی لانا ہے۔ ان کوششوں سے رہائش، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں محرومیوں پر قابو پانے اور کمزور و مستحق خاندانوں کو معاشی خودانحصاری کی جانب گامزن کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بچوں، بزرگ شہریوں، خصوصی افراد اور معاشرے کے دیگر محروم طبقات کی معاشی فلاح و بہبود یقینی بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو غربت سے نکالنے کے لیے جامع معاونتی پیکج پر مشتمل خصوصی اقدام شروع کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے غربت کے خاتمے کو مشترکہ قومی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مقامی برادریوں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو سماجی و معاشی طور پر محفوظ، ذرائع معاش کے حوالے سے خودانحصار اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، ’’آئیے، ایک روشن مستقبل کے حامل خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے اجتماعی عزم کی تجدید کریں، جہاں معاشرے کے کسی بھی فرد یا طبقے کو ترقی کے ثمرات میں شراکت سے محروم نہ رکھا جائے۔‘‘

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور سی آئی سی اے کے سیکریٹری جنرل کا ساتویں سربراہی اجلاس کے نتائج اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال