
ویتنام اور ڈنمارک کا گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید جامع تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار
کوپن ہیگن، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری تو لام نے ویتنام اور ڈنمارک کے درمیان گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید جامع اور اسٹریٹجک تعاون کے فریم ورک میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے پائیدار ترقی، قابلِ تجدید توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا ہے۔
کوپن ہیگن، 20 اکتوبر: ڈنمارک کے سرکاری دورے کے دوران یونیورسٹی آف کوپن ہیگن میں پالیسی خطاب کرتے ہوئے تو لام نے کہا کہ دونوں ممالک نے کئی دہائیوں پر محیط دوستی اور تعاون کے ذریعے باہمی اعتماد کی مضبوط بنیاد قائم کی ہے، جو دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کے لیے سازگار مواقع فراہم کرتی ہے۔
’’پریوں کی کہانیوں سے ایک نئے دور میں ویتنام اور ڈنمارک کے تعاون کے افق تک‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اس خطاب میں ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہینرک فرینڈسن، دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، ماہرینِ تعلیم، سائنس دانوں، طلبہ اور ویتنام کے دوستوں نے شرکت کی۔
ویتنامی رہنما نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک ان اولین مغربی یورپی ممالک میں شامل تھا جس نے 1971 میں ویتنام کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے ویتنام کی قومی آزادی کی جدوجہد اور بعد ازاں تعمیرِ نو کے دوران ڈنمارک کے عوام کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 55 برسوں کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات ترقیاتی امداد سے آگے بڑھ کر تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس وقت ڈنمارک کی 150 سے زائد کمپنیاں ویتنام میں مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔
تو لام نے کہا کہ 2013 میں قائم ہونے والی جامع شراکت داری اور 2023 میں شروع کی گئی گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی بنیاد پر اب تعاون کے ایک وسیع تر فریم ورک کی ضرورت ہے، جس کے تحت ڈنمارک کی سائنسی، تکنیکی اور ماحول دوست ترقی کے شعبوں میں مہارت کو ویتنام کی ترقیاتی صلاحیتوں اور پائیدار ترقی کے عزم کے ساتھ یکجا کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، کثیرالجہتی تعاون کی حمایت اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے جیسے مشترکہ اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے ویتنام اور ڈنمارک کو جنوب مشرقی ایشیا اور شمالی یورپ کے درمیان اسٹریٹجک پل قرار دیتے ہوئے آسیان (ASEAN) اور یورپی یونین (EU) کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست ترقی میں تعاون
ویتنامی صدر نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو روایتی امداد کے دائرے سے نکل کر مشترکہ طور پر قدر پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے، بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور منصفانہ توانائی کی منتقلی کے شعبوں میں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ویتنام کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کی کوششیں ماحولیاتی تحفظ اور تکنیکی ترقی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئیں۔
ڈنمارک کے ماحول دوست ترقی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے شعبوں میں عالمی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے تو لام نے سمندر میں ونڈ پاور منصوبوں، بحری معیشت اور قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون کے وسیع امکانات اجاگر کیے۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام کی 3,200 کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی اور سمندر میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت ڈنمارک کی مہارت سے استفادے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔ دونوں ممالک کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے قابلِ تجدید توانائی کی نئی صنعتیں قائم کی جا سکتی ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے اور آسیان پاور گرڈ کی ترقی میں ڈنمارک کے کردار کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔
تو لام نے محفوظ سپلائی چینز کے قیام، آزاد تجارت کے تحفظ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے تحقیق و جدت کے شعبوں میں بھی قریبی تعاون پر زور دیا۔
تعلیم، تحقیق اور عوامی روابط کے فروغ پر زور
ویتنامی رہنما نے تعلیم، سائنسی تحقیق اور عوامی روابط کو دونوں ممالک کے تعلقات کی طویل مدتی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویتنام کو اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل انسانی وسائل کی ضرورت ہے، جبکہ ڈنمارک میں یونیورسٹی آف کوپن ہیگن جیسے اداروں کے ذریعے مضبوط علمی اور تحقیقی ماحول موجود ہے۔
انہوں نے مشترکہ تحقیقی گروپس قائم کرنے، ڈاکٹریٹ کے طلبہ کے لیے مشترکہ نگرانی کے انتظامات متعارف کرانے اور تحقیقی سہولیات کے اشتراک کی تجاویز پیش کیں تاکہ تعلیمی تعاون کو دیرپا بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔
تو لام نے یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کو ویتنام میں اپنا کیمپس قائم کرنے پر غور کرنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ٹیکس اور زمین سے متعلق سازگار ترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، تاکہ ویتنام اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
انہوں نے ڈنمارک میں مقیم ویتنامی برادری، بالخصوص سائنس دانوں، ماہرین، کاروباری شخصیات اور طلبہ کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم رابطہ قرار دیتے ہوئے نوجوان نسل کے مابین تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
عالمی امن اور بین الاقوامی تعاون کے لیے مشترکہ کوششیں
علاقائی اور عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے تو لام نے اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر ویتنام اور ڈنمارک کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے کے ساتھ آسیان اور ڈنمارک اور آسیان و یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قانون، کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل کے حامی ہیں۔
معروف ڈنمارک کے ماہرِ طبیعیات نیلز بوہر کے بین الاقوامی تعاون اور امن کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار ترقی کے تناظر میں سائنسی و تکنیکی پیش رفت کو ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈنمارک کے ساتھ مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
دونوں ممالک کی بحری حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے تو لام نے امید ظاہر کی کہ ڈنمارک بین الاقوامی قانون، بالخصوص سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے 1982 کے کنونشن (UNCLOS) کے مطابق بحری سلامتی، تحفظ اور جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 55 برسوں کے دوران قائم ہونے والا باہمی اعتماد مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ویتنام اور ڈنمارک کے تعلقات کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں۔
گرین ٹرانزیشن ویتنام کے نئے اقتصادی ترقیاتی ماڈل کا اہم محرک قرار
خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن میں تو لام نے ماحول دوست ترقی کی منتقلی (گرین ٹرانزیشن) کو محض ماحولیاتی عزم کے بجائے ویتنام کی مستقبل کی اقتصادی ترقی کا بنیادی محرک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام آنے والے عرصے میں اوسطاً دو ہندسوں پر مشتمل اقتصادی ترقی کی شرح حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے قدرتی وسائل اور محنت پر مبنی روایتی ترقیاتی ماڈل سے آگے بڑھ کر پیداواری صلاحیت، جدت اور صاف ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب منتقلی ضروری ہے۔
ان کے مطابق اس تبدیلی سے قابلِ تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، سرکلر اکانومی، ماحول دوست مواد اور کم اخراج والی زراعت میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے توانائی کی منتقلی کے ماڈلز، جدید نسل کی قابلِ تجدید توانائی، پائیدار زراعت اور جدید مہارتوں کی ترقی کو بین الاقوامی جامعات کے ساتھ مشترکہ تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔
اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے اور درمیانی آمدنی کے جال سے بچنے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں انہوں نے تین بنیادی تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔ ان میں کم لاگت کی محنت سے پیداواری صلاحیت اور جدت کی جانب پیش رفت، روایتی اقتصادی نمو سے ماحول دوست، ڈیجیٹل اور جامع ترقی کی طرف منتقلی، اور برآمدات و ملکی کھپت کے درمیان بہتر توازن قائم کرنا شامل ہیں۔
تو لام نے کہا کہ اقتصادی ترقی کو پائیدار بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور سائنس و ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور تربیت ویتنام کی قومی ترجیحات میں شامل رہیں گی۔ حکومت تعلیمی معیار بہتر بنانے، نصاب کو منڈیِ محنت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور اہم تکنیکی شعبوں میں مہارت پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
ان کے مطابق ویتنام دوبارہ تربیت اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کے ذریعے ڈیجیٹل مہارتوں کو وسعت دے گا، مسابقتی مراعات اور سازگار ماحول فراہم کرکے ملکی و غیر ملکی صلاحیتوں کو راغب کرنے اور برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا، جبکہ قابلِ تجدید توانائی اور سرکلر اکانومی کے فروغ کے ذریعے ماحول دوست، جامع اور مستحکم معیشت کی بنیاد مضبوط بنائے گا۔