
مالدیپ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مزید مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے قیام کے خواہاں ہیں۔
بدھ کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں مالدیپ کے صدر نے کہا کہ 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ مالدیپ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نئے اور متحرک دور کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کا جائزہ لیا گیا اور تجارت و سرمایہ کاری، صحت و تعلیم، ماحولیات و سیاحت، ماہی گیری و زراعت، نوجوانوں و کھیلوں، دفاع و سلامتی، تربیت و استعداد کار میں اضافے سمیت علاقائی اور کثیرالجہتی تعاون کے اہم شعبوں میں مشترکہ ترجیحات کا تعین کیا گیا۔
صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی مضبوط بنیاد فراہم ہوئی ہے، جبکہ دونوں ممالک رسمی سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
انہوں نے دوطرفہ تجارت کا حجم آئندہ دو سال میں ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کو خوش آئند قرار دیا۔
مالدیپ کے صدر نے پاکستان کی جانب سے ان کے ملک کے پانچ ملین درخت لگانے کے اقدام کے لیے قیمتی عطیے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران ملنے والی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنا عزیز بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والے نتیجہ خیز سرکاری مذاکرات پر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر محمد معیزو نے مزید کہا کہ ان کے لیے اور ان کے ملک کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے انہیں سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں ڈاکٹریٹ آف فلاسفی (اعزازی) کی ڈگری سے نوازا۔