
آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی عالمی تعلقات میں دوہرے معیار پر تنقید، خودمختار ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی مخالفت
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے بین الاقوامی تعلقات میں دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ اخلاقی حق حاصل نہیں کہ وہ کسی خودمختار ریاست کو یہ بتائے کہ اسے کس طرح زندگی گزارنی چاہیے یا اپنے معاملات کیسے چلانے چاہئیں۔
ساتویں عالمی فورم برائے بین الثقافتی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے صدر علییف نے ان ممالک کے طرزِ عمل پر سوال اٹھایا جو اپنے معاملات اور طرزِ عمل کا جائزہ لیے بغیر دوسری ریاستوں کو ان کے داخلی امور کے بارے میں ہدایات دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوہرے معیار کا مظاہرہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب کوئی دوسروں کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے پہلے متعلقہ ملک کو خود اپنا جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوال کرنا چاہیے کہ آیا اسے کسی آزاد ریاست کو یہ بتانے کا اخلاقی حق حاصل ہے کہ وہ کیسے زندگی گزارے، کیا کرے اور کیا نہ کرے۔
آذربائیجان کے صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ اپنی ذمہ داریوں اور قومی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ایسا کبھی نہیں کرتے۔ ہم اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک میں کیا ہو رہا ہے، یہ وہاں کے عوام کا معاملہ ہے، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘‘
صدر علییف کے ان بیانات میں قومی خودمختاری کے احترام اور ریاستوں کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے سیاسی، سماجی اور ثقافتی راستوں کا تعین کرنے کا اختیار دینے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
ساتواں عالمی فورم برائے بین الثقافتی مکالمہ ایک ایسا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی رہنما اور مختلف شعبوں کے نمائندے موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں بین الثقافتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔