
آذربائیجان کا 13 فیصد سے زائد علاقہ بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد سے آلودہ، اقوام متحدہ میں انکشاف
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے 13 فیصد سے زائد علاقے بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات کی صورت میں موجود دیگر دھماکہ خیز مواد سے آلودہ ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سے اب تک صرف 24.3 فیصد کو صاف کیا جا سکا ہے۔
یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ میں آذربائیجان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری شاہریار حاجی یف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران اندرونِ ملک بے گھر افراد کے انسانی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندے کے ساتھ انٹرایکٹو مکالمے میں پیش کیے۔
شاہریار حاجی یف نے بارودی سرنگوں سے لاحق مسلسل خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 2020 سے اب تک بارودی سرنگوں کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 400 سے زائد آذربائیجانی شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلح تنازع اور قبضے کے باعث وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد تعمیرِ نو اور بحالی آذربائیجان کی اہم قومی ترجیحات میں شامل ہیں۔
آذربائیجانی سفارت کار کے مطابق، ملک نے تنازع کے دوران تباہ ہونے والے شہروں، قصبوں اور دیہات کی تعمیرِ نو کے لیے 16 ارب ڈالر سے زائد مختص کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’گریٹ ریٹرن پروگرام‘‘ کے تحت تقریباً ایک لاکھ افراد 48 رہائشی علاقوں میں قائم نو تعمیر شدہ بستیوں میں رہائش اختیار کر چکے ہیں، جہاں وہ زندگی گزارنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
شاہریار حاجی یف نے زور دیا کہ بارودی سرنگوں کا مسلسل خطرہ ذمہ داروں کے احتساب اور انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مناسب بین الاقوامی معاونت کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں بے گھر افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے قومی کوششوں کی حمایت بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بارودی سرنگوں، جنگی باقیات کی صورت میں موجود دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کی صفائی متاثرہ آبادیوں کے ذرائع معاش بحال کرنے، معاشی بحالی کو فروغ دینے اور بے گھر افراد کے لیے پائیدار حل یقینی بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
آذربائیجانی سفارت کار نے اندرونِ ملک بے گھر افراد کے انسانی حقوق کی مکمل فراہمی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تنازعات کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے شعبوں میں آذربائیجان کے تجربات اور بہترین طریقہ کار شیئر کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی۔