کشمیر

کشمیر کی آزادی تک پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی، اسحاق ڈار

Read Time:3 Minute, 32 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 25 کروڑ پاکستانیوں کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ عزم غیر متزلزل ہے اور پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر عالمی فورم پر جاری رکھے گا۔

یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں اسلام آباد میں منعقدہ یکجہتی واک کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے 27 اکتوبر 1947 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی آمد اور قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو اس دن کی یاد دہانی کرائی جا سکے جب بھارتی فوج سری نگر پہنچی تھی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ دن بھارت کے غیر قانونی اقدام کی یاد دلاتا ہے، جس کی عالمی سطح پر مذمت کی جاتی رہی ہے، جبکہ کشمیریوں کی آزادی ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔

آئین ایونیو پر منعقدہ واک دفتر خارجہ سے شروع ہوئی اور ڈی چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جموں و کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے اور اب اس کے اجلاس اہم عالمی سربراہی کانفرنسوں کے موقع پر باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ہونے والی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بھارت کے اپنے آئینی وعدوں کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور غیر مقامی افراد کو جائیدادیں حاصل کرنے کی اجازت دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، ان کے بقول، کوئی بھی غیر قانونی اقدام کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم نہیں کر سکتا۔

نائب وزیراعظم نے آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 90 ہزار سے زائد کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیاسی قیادت کی غیر قانونی حراست، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں، نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں رکاوٹوں اور انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے غیر ملکی مبصرین اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ علاقے میں جانے سے روکنے کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، او آئی سی اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت ہر اہم عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھاتے رہے ہیں۔ دفتر خارجہ بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر اور او آئی سی و شنگھائی تعاون تنظیم کی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مبینہ بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہونے والے مظالم اور دورانِ حراست اموات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی مشکلات کے ازالے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور جموں و کشمیر تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دینے کے تاریخی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ان کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کی راہ ہموار ہوگی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی عالمی تعلقات میں دوہرے معیار پر تنقید، خودمختار ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی مخالفت