
آصفہ بھٹو زرداری کی والدین سے نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو قطرے پلانے کی اپیل
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد پر زور دیا ہے کہ وہ 2 سے 8 نومبر تک جاری رہنے والی ذیلی قومی انسدادِ پولیو ویکسینیشن مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔
انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت ملک کے 97 منتخب اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز خدمات انجام دیں گے۔ ان کارکنوں کی کوششیں ہدف میں شامل ہر علاقے اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان نے 1994 میں قومی انسدادِ پولیو پروگرام کے آغاز کے بعد پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، تاہم 2026 کے دوران اب تک پولیو کے سات کیسز رپورٹ ہونا اس وائرس کی مسلسل موجودگی کے حوالے سے ایک سنگین تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جون 2027 تک پولیو سے پاک ملک بنانا ہمارا ہدف ہے، جس کے لیے ہر اہل بچے تک رسائی اور مسلسل ویکسینیشن کی کوششیں ناگزیر ہیں۔
خاتونِ اوّل نے کہا کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں اور یہ بیماری عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ویکسینیشن کے ذریعے اس سے مکمل تحفظ ممکن ہے۔ ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے پلانا ضروری ہیں، خواہ اسے پہلے کتنی ہی مرتبہ ویکسین کیوں نہ دی جا چکی ہو۔ والدین کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے بچوں کی معمول کی حفاظتی ویکسینیشن مقررہ وقت پر مکمل ہو۔
انہوں نے کہا کہ والدین اور اہلِ خانہ کی ذمہ داری ہے کہ جب ویکسینیشن ٹیمیں ان کے گھروں کا دورہ کریں تو بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور کسی بھی بچے کو ویکسین کی خوراک سے محروم نہ رہنے دیں۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا کہ وہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اور انہیں بچوں تک رسائی فراہم کریں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے ملک بھر میں کمیونٹیز کی خدمت کرنے والے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارکن دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں سمیت مختلف آبادیوں میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
خاتونِ اوّل نے تمام والدین، کمیونٹی نمائندوں اور متعلقہ اداروں و فریقین پر زور دیا کہ وہ نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے اور ہر بچے کو اس قابلِ تدارک بیماری سے محفوظ بنانے تک یہ کوششیں مسلسل جاری رکھنا ہوں گی۔