انڈونیشیا

انڈونیشیا کا 2026 کے اختتام تک معدنیات اور کوئلے کے شعبے سے 165 ٹریلین روپیہ غیر ٹیکس آمدن حاصل کرنے کا ہدف

Read Time:2 Minute, 6 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی حکومت نے معدنیات اور کوئلے کے شعبے سے سال 2026 کے اختتام تک 165 ٹریلین انڈونیشین روپیہ (تقریباً 9.17 ارب امریکی ڈالر) کی غیر ٹیکس سرکاری آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیر برائے کوآرڈینیشن برائے ڈاؤن اسٹریمنگ اینڈ انرجی ٹرانزیشن باہلیل لاہادالیا نے کہا ہے کہ رواں سال کان کنی کے شعبے کی مضبوط مالی کارکردگی کے پیش نظر حکومت نے آمدن کا ہدف بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جکارتہ میں پیر کے روز منرل اینڈ کول کنونشن اینڈ ایگزیبیشن 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سال 2026 کے اختتام تک معدنیات اور کوئلے کے شعبے سے 160 سے 165 ٹریلین روپیہ تک غیر ٹیکس آمدن حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 31 اکتوبر 2026 تک اس شعبے سے غیر ٹیکس سرکاری آمدن 141.94 ٹریلین روپیہ (تقریباً 7.89 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ چکی تھی، جو پورے سال کے لیے مقررہ 134.05 ٹریلین روپیہ کے ہدف کا 106 فیصد ہے۔

باہلیل لاہادالیا کے مطابق رواں سال اکتوبر کے اختتام تک حاصل ہونے والی آمدن 2025 کے پورے مالی سال میں حاصل کردہ 135.16 ٹریلین روپیہ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے اس نمایاں اضافے کو سراہتے ہوئے کان کنی کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کان کنی کی صنعت سے وابستہ افراد قومی خزانے میں محصولات کی فراہمی کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر نے کان کنی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار سرگرمیوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے بالخصوص کان کنی کے بعد زمین کی بحالی کے لازمی منصوبوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 تک کان کنی کی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 10 ہزار 100 ہیکٹر کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 6 ہزار 480 ہیکٹر اراضی کی بحالی مکمل کر لی تھی، جو مجموعی ہدف کا 64 فیصد بنتا ہے۔

باہلیل لاہادالیا نے صنعت کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے انتظام میں بہتر حکمرانی، ذمہ داری اور احتیاط کو ترجیح دیں تاکہ قلیل مدتی مفادات کے بجائے طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے قدرتی وسائل کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت، بھرتیاں میرٹ اور شفافیت پر کرنے پر زور
ویتنام Next post ویتنام کا علاقائی اور عالمی لاجسٹکس مرکز بننے کا عزم، قومی لاجسٹکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور