
ویتنام کا علاقائی اور عالمی لاجسٹکس مرکز بننے کا عزم، قومی لاجسٹکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام نے ملک کو علاقائی اور عالمی سطح پر لاجسٹکس، کارگو کی منتقلی اور اشیاء کی تقسیم کا ایک اہم مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے قومی لاجسٹکس صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور جدید بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دیا ہے۔
پیر کے روز حکومتی پارٹی کمیٹی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قومی لاجسٹکس اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاجسٹکس کا فروغ محض کسی ایک معاشی شعبے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق پوری معیشت کی تنظیمی صلاحیت، باہمی رابطوں اور عملی استعداد سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاجسٹکس کا شعبہ قومی مسابقت، معاشی خودمختاری، اقتصادی استحکام اور قومی دفاع و سلامتی کے تقاضوں سے براہ راست وابستہ ہے۔ ویتنام جب دوہرے ہندسے کی اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو لاجسٹکس کو اقتصادی ترقی کا حقیقی محرک بنانا ضروری ہے، تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اخراجات میں کمی، ترقی کے نئے مواقع اور معیشت کی توسیع کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔
تو لام نے کہا کہ لاجسٹکس کی ترقی کو قومی ترقی کی جامع حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے اور اس کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر رہنمائی اور رابطہ کاری ضروری ہے۔ اس ذمہ داری کو کسی ایک وزارت، شعبے یا مقامی انتظامیہ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک واضح مرکزی رابطہ کار ادارے کے قیام، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کے تعین اور نظامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ویتنامی رہنما نے کہا کہ ملک کو بین الاقوامی کارگو کی نقل و حرکت اور عالمی تجارتی بہاؤ سے فائدہ اٹھانے کے لیے فعال حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس کا مقصد صرف ویتنام کی درآمدات اور برآمدات کو سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ دیگر ممالک کے سامان کو بھی ویتنام کے ذریعے منتقل کرنے، ذخیرہ کرنے، تقسیم کرنے اور اضافی قدر پر مبنی خدمات فراہم کرنے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز میں اپنا کردار مزید مستحکم بنانا ہوگا اور اپنے جغرافیائی محل وقوع کو مسابقتی برتری، ترقی کے وسائل اور عالمی اقتصادی حیثیت میں اضافے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے لاجسٹکس مراکز، تجارتی گیٹ ویز اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداریوں کا قیام ضروری ہے جو عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
تو لام نے ایک مربوط، جدید اور ملک گیر لاجسٹکس نیٹ ورک کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام میں مختلف علاقوں اور مقامی اکائیوں کے مخصوص معاشی و جغرافیائی فوائد کو قومی ترقی کے وسیع تر تناظر میں بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاری کے بکھراؤ، رابطوں کی کمی اور انتظامی حدود کے باعث پیدا ہونے والی ترقیاتی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحول دوست ترقی ویتنام کے لاجسٹکس شعبے کو جدید بنانے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ ڈیجیٹل اور گرین لاجسٹکس کو بتدریج ملک کی نئی مسابقتی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے ویتنام کی بڑی لاجسٹکس کمپنیوں کے قیام اور ترقی کے لیے معاون پالیسیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مقامی کمپنیاں بین الاقوامی سپلائی چینز، نقل و حمل، کارگو کی منتقلی اور اشیاء کی تقسیم کا انتظام سنبھالنے کے ساتھ مربوط اور زیادہ قدر پر مبنی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو سکیں۔
صدر تو لام نے کثیر مرکزی ماڈل کی بنیاد پر قومی لاجسٹکس نیٹ ورک کے منصوبے کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق لاجسٹکس مراکز کے مقامات اور حجم کے تعین کے لیے رابطہ کاری کی سہولت، کارگو کے ذرائع، پیداواری مراکز، منڈیوں تک رسائی، زمین کی دستیابی اور سرمایہ کاری کی افادیت جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان مراکز کو قومی، علاقائی اور خصوصی سطحوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے اور نیٹ ورکس کو اقتصادی راہداریوں کے ساتھ ترقی دی جائے، جبکہ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، کارگو ٹرمینلز اور سرحدی گزرگاہوں کو صنعتی زونز، پیداواری مراکز اور صارفین کی منڈیوں سے منسلک کرنے کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس کے دوران انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی کے فروغ، مشترکہ لاجسٹکس ڈیٹا کے نظام کی تشکیل، ماحول دوست لاجسٹکس کی ترقی اور سپلائی چینز کو ممکنہ رکاوٹوں اور بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔