عطا اللہ تارڑ

وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کو 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم:عطا اللہ تارڑ

Read Time:3 Minute, 33 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ مستحق صارفین کو رعایتی نرخوں پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے 27 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کو روک کر اس اضافی مالی بوجھ کو صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے آئل ریفائنریز کے ذمہ ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق ریفائنریز کو ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی اولین ترجیح عوام پر مالی دباؤ کم سے کم رکھنا ہے اور واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ عالمی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے معاشی اثرات عوام تک منتقل نہ ہوں۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال سمیت عالمی پیش رفت نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں، تاہم ملک کے مجموعی معاشی اشاریے مثبت ہیں۔

انہوں نے فیول ریلیف اسکیم کو عوامی فلاح و بہبود کا اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور 800 سی سی تک انجن کی حامل گاڑیوں کو رعایتی نرخوں پر پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہو چکی ہیں جبکہ رعایتی نرخوں پر فراہم کیے گئے پٹرول کی ادائیگیوں کے لیے پٹرول پمپس کو بھی رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اسکیم کی کامیابی وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی، وزارتِ پٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مشترکہ اور مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم ملک بھر میں کامیابی سے شروع ہو چکی ہے اور مستحق صارفین کو سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ضروری اشیائے خورونوش کی کوئی قلت نہیں، مشکل عالمی حالات کے باوجود کارگو کی آمد اور سپلائی چین برقرار رکھی گئی ہے تاکہ قومی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات پر کان نہ دھریں۔

خیبر پختونخوا کی ترقیاتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے صوبے میں گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح کے شعبوں میں خاطر خواہ منصوبے شروع نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں، کالجوں اور جامعات کے قیام کے حوالے سے نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اسکیم جیسی سہولتوں سے بھی محروم رکھا گیا۔

وفاقی وزیر نے اپنے حالیہ دورہ کوہاٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موٹروے اور کوہاٹ ٹنل مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں تعمیر کیے گئے، تاہم بعد کی صوبائی حکومتیں سیف سٹی منصوبے، گردہ و جگر کی پیوندکاری کے مرکز اور نئی جامعات جیسے منصوبے شروع کرنے میں ناکام رہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ساختی اصلاحات اور پیداواری عمل کی ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی سے اضافی محصولات حاصل ہوئے ہیں، جبکہ صرف چینی کی صنعت سے 60 ارب روپے کے اضافی ٹیکس جمع کیے گئے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ سیمنٹ، تمباکو اور مشروبات کی صنعتوں میں بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداوار کی نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ بندرگاہوں اور شپنگ کے شعبوں میں بھی اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کو سیاسی جماعتوں اور شخصیات پر مقدم رکھا جانا چاہیے اور ملک کے مفادات کو ہر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے حکومت کی معاشی اصلاحات اور استحکام کے اقدامات کو مشکل حالات میں اہم کامیابی قرار دیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post ناروے کے شہروں اسٹاوانگر اور اوسلو میں آذربائیجان کے یومِ فتح اور نارویجن آذربائیجانی یوتھ آرگنائزیشن کے 20 سال مکمل ہونے پر پروقار تقریبات کا انعقاد
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کا ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں قرضوں کی فراہمی تیز کرنے پر زور، بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ