شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں قرضوں کی فراہمی تیز کرنے پر زور، بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ

Read Time:4 Minute, 26 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، ہاؤسنگ اور زراعت کے شعبوں کی ترقی کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کو رعایت نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

وہ پیر کو ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولتوں کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سرکاری اقدامات کے تحت زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ ان بینکوں کو کسی قسم کی رعایت نہ دیں جو کسانوں، ایس ایم ایز اور وزیراعظم کی اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کے تحت صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا بینکوں کو بھی ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں اسی جذبے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جس طرح حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے بینکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور زرعی اجناس میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنی چھت اپنا گھر اسکیم سے ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ متعدد صنعتوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں سے وابستہ متعلقہ فریقوں کو قرضوں کی فراہمی میں درپیش مسائل حل کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے ایک جامع ایکشن پلان مرتب کیا جائے۔

وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھی ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمدکنندگان کے ٹیکس سے متعلق مسائل باہمی مشاورت سے حل کیے جائیں۔ انہوں نے ایس ایم ایز کو آسانی سے قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جامع رسک کوریج حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ضابطہ جاتی نظام میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات اور اخراجات کی شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولتوں کا فروغ شامل ہیں۔

اس سلسلے میں ایس ایم ایز کے لیے حال ہی میں ڈیجیٹل پورٹل (smeconnect.sbp.org.pk) بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے ساتھ اپنی درخواستوں پر ہونے والی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

بریفنگ کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم کی اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ 86 ہزار 899 قرضے منظور ہوئے ہیں۔ ان میں سے 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ اس سے مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو چکی ہے۔

زراعت کے شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 329 ارب روپے جبکہ مستفید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 35 لاکھ ہے۔ اسی طرح ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 148 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 ہو گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں قرضوں کا حجم بڑھا کر 1,500 ارب روپے تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جبکہ قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات کی تعداد کم کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

اجلاس میں تینوں ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکوں کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے۔ وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کو سراہا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین اور چوہدری افتخار نذیر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ملک کے معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان اور نمائندگان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
عطا اللہ تارڑ Previous post وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کو 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم:عطا اللہ تارڑ