
ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے بارٹر تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے، انڈونیشی وزیر تجارت
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر تجارت بودی سانتوسو نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کی طلب میں کمی اور مقامی کرنسی روپیہ پر دباؤ کم کرنے کے لیے حکومت بارٹر (اشیاء کے تبادلے) پر مبنی تجارتی انتظامات کو فروغ دے رہی ہے۔
منگل کو جکارتہ میں غذائی اجناس کی قیمتوں سے متعلق ایک محدود رابطہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تجارت نے بتایا کہ حکومت نے متعدد ممالک کے ساتھ کاؤنٹر ٹریڈ تعاون کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے، جن میں فلپائن بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کا ایک اہم مقصد امریکی ڈالر میں ہونے والے اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کے بقول، ’’ہم نے بارٹر تجارت کے ذریعے اس سمت میں عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔‘‘
بودی سانتوسو نے بتایا کہ انڈونیشیا اور فلپائن کے درمیان اباکا فائبر اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے علاوہ لوہے کی معدنیات اور فولادی مصنوعات کے تبادلے پر مبنی تجارتی معاہدوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بارٹر تعاون کی مالیت تقریباً 350 ملین امریکی ڈالر، یعنی لگ بھگ 6.3 کھرب انڈونیشی روپیہ کے برابر ہے۔
وزیر تجارت کے مطابق بارٹر نظام کے تحت ادائیگیاں نقد رقم کے بجائے اشیاء کے تبادلے کے ذریعے کی جاتی ہیں، جس سے درآمدات کے لیے درکار زرمبادلہ کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید مصنوعات کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا تاکہ امریکی ڈالر پر انحصار مزید کم کیا جا سکے۔
بودی سانتوسو نے کہا کہ حکومت بارٹر تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ روپیہ کی قدر میں کمی کے تناظر میں درآمدی اشیاء کی قیمتوں پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکام درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا پیشگی جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔
وزیر تجارت نے یاد دلایا کہ حکومت اس سے قبل پلاسٹک کے خام مال اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سمیت بعض اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ دے چکی ہے تاکہ ملکی سطح پر قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس میں حکام نے انڈونیشی روپیہ کی گرتی ہوئی قدر کا بھی جائزہ لیا، جو جنوری 2026 میں تقریباً 16,800 روپیہ فی امریکی ڈالر سے کم ہو کر جون کے اوائل میں تقریباً 18,000 روپیہ فی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے درآمدی غذائی اجناس کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
بودی سانتوسو نے اس موقع پر کہا کہ برآمدات میں اضافہ اور تجارتی نظام میں تنوع پیدا کرنا ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور مالی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اگر ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا تو زرمبادلہ کی آمدنی بھی بڑھے گی۔‘‘