انڈونیشیا

انڈونیشیا کی الیکٹرک وہیکل صنعت کے فروغ، ٹیکنالوجی میں جدت اور عالمی سپلائی چین میں کردار بڑھانے پر زور

Read Time:2 Minute, 42 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے نائب صدر گبران راکابومنگ راکا نے ملک کی الیکٹرک وہیکل (ای وی) صنعت کو مضبوط بنانے، تکنیکی جدت کے فروغ اور عالمی الیکٹرک وہیکل سپلائی چین میں انڈونیشیا کا کردار بڑھانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انڈونیشیا کے نائب صدر نے یہ خیالات 28 اکتوبر کو جکارتہ کے نائب صدارتی محل میں معروف الیکٹریکل انجینئر اور ماہرِ تعلیم چنگ چُوئن چان سے ملاقات کے دوران اظہار کیے۔ انڈونیشیائی ذرائع ابلاغ کے مطابق چان، جو انڈونیشیا میں پیدا ہونے والے چینی نژاد ماہرِ تعلیم ہیں، ایشیا میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں اپنی خدمات کے باعث ”الیکٹرک وہیکلز کا فادر آف ایشیا“ کہلاتے ہیں۔

ملاقات کے دوران گبران نے تحقیق اور جدت پر مبنی مضبوط نظام کی تشکیل، الیکٹرک وہیکل صنعت کے لیے حکومتی معاونت میں اضافے اور نوجوان انڈونیشیائی شہریوں کو تکنیکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کو اپنے وافر قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک کے بجائے مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی اور حل تیار کرنے والا ملک بننے کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔

نائب صدر نے تسلیم کیا کہ قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود ملک میں جدت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، جس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دستیاب وسائل کی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔

انہوں نے صدر پرابوو سوبیانتو کی ہدایات کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے اس شعبے کو ترقی دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس سلسلے میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی صنعت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں پہلے ہی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔

گبران نے کہا کہ صارفین کے لیے مناسب مراعات متعارف کرانا الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال کو فروغ دینے اور مقامی مارکیٹ کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ملاقات میں شریک نائب وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی سٹیلا کرسٹی نے بھی الیکٹرک وہیکل صنعت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی اسناد کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کو نہ صرف صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنی چاہیے بلکہ اپنی ٹیکنالوجی تخلیق کرنے، اسے ترقی دینے اور مقامی سطح پر جدید حل متعارف کرانے کی صلاحیت بھی مضبوط بنانا ہوگی۔

دوسری جانب چنگ چُوئن چان نے الیکٹرک وہیکل صنعت کی ترقی تیز کرنے، تکنیکی مہارتوں کے تبادلے اور انڈونیشیا کے نوجوانوں میں جدت و تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے انڈونیشیا اور چین کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی الیکٹرک وہیکل مارکیٹ میں انڈونیشیا کی مسابقت بڑھانے کے لیے تکنیکی خود انحصاری ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تحقیق، ترقی اور جدت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔

ملاقات میں اس امر پر اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ انڈونیشیا میں پائیدار الیکٹرک وہیکل نظام کی تشکیل اور عالمی ٹیکنالوجی و مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ملک کا کردار بڑھانے کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی حلقوں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مراکش Previous post مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، نورڈ ویسٹ میڈ اور ٹینجر میڈ بندرگاہوں کی توسیع کا جائزہ
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان مذہبی تعلیم و تحقیق میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال