مراکش

مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، نورڈ ویسٹ میڈ اور ٹینجر میڈ بندرگاہوں کی توسیع کا جائزہ

Read Time:5 Minute, 39 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے بدھ کے روز شاہی محل رباط میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں نورڈ ویسٹ میڈ بندرگاہی کمپلیکس پر پیش رفت اور ٹینجر میڈ بندرگاہ کی توسیع کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ٹینجر میڈ 3 کی تعمیر کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد عالمی بحری تجارت اور بین الاقوامی سپلائی چین میں مراکش کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

شاہی دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، اجلاس میں دونوں منصوبوں کی پیش رفت اور آئندہ مراحل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نورڈ ویسٹ میڈ بندرگاہ کے پہلے کنٹینر ٹرمینل کو آئندہ چند روز میں فعال کرنے کی توقع ہے، جبکہ ٹینجر میڈ 3 کی تعمیر بھی جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔

ٹینجر میڈ اسپیشل ایجنسی (TMSA) کے سپروائزری بورڈ اور نورڈ ویسٹ میڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین فواد برینی نے اجلاس کو دونوں منصوبوں کے بنیادی ڈھانچے، موجودہ پیش رفت اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

یہ منصوبے مراکش کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت بندرگاہوں کی گنجائش میں اضافہ، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور متعلقہ علاقوں میں معاشی ترقی کو تیز کرنا مقصود ہے۔

نورڈ ویسٹ میڈ منصوبے میں 54 ارب درہم کی سرمایہ کاری

نورڈ ویسٹ میڈ بندرگاہی کمپلیکس میں سرکاری اور نجی شعبے کی مجموعی سرمایہ کاری 54 ارب مراکشی درہم تک پہنچ چکی ہے، جو تقریباً 5.4 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ اس منصوبے کو ٹینجر میڈ بندرگاہ کی تکمیلی سہولت کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس میں بندرگاہی ڈھانچے کے ساتھ صنعتی، لاجسٹکس اور توانائی کی سہولیات بھی شامل ہیں۔

منصوبے کے پہلے کنٹینر ٹرمینل کو آئندہ چند روز میں ابتدائی طور پر فعال کرنے کی توقع ہے، جس کی سالانہ کنٹینر ہینڈلنگ کی گنجائش 35 لاکھ کنٹینرز ہوگی۔ دوسرے ٹرمینل کو، جس کی سالانہ گنجائش 18 لاکھ کنٹینرز مقرر کی گئی ہے، اپریل 2027 میں فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔

دونوں ٹرمینلز مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ مجموعی طور پر 53 لاکھ کنٹینرز کی ہینڈلنگ کرسکیں گے۔ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کی جانب سے 8 ارب مراکشی درہم، یعنی تقریباً 800 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

نورڈ ویسٹ میڈ کمپلیکس میں توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے اہم بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ان سہولیات میں ہائیڈروکاربن ٹرمینل، چار ملین مکعب میٹر تک ذخیرہ کرنے کی ممکنہ گنجائش رکھنے والے اسٹوریج انفراسٹرکچر سے منسلک نظام، اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ٹرمینل شامل ہے، جو سالانہ پانچ ارب مکعب میٹر تک گیس پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔

اس کے علاوہ، بندرگاہ پر ٹھوس بلک کارگو اور عمومی تجارتی سامان کی ترسیل و ہینڈلنگ کے لیے بھی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس سے بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوگا۔

منصوبے سے 34 ہزار براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں متوقع

نورڈ ویسٹ میڈ سے منسلک صنعتی زون میں سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس وقت ایک فیکٹری کام کر رہی ہے، جبکہ مزید تین فیکٹریوں کی تعمیر جاری ہے۔

شاہی دفتر کے مطابق، اس منصوبے سے قلیل مدت میں 14 ہزار براہِ راست اور 20 ہزار بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اردگرد کے علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

بندرگاہ کو مراکش کے دیگر علاقوں سے منسلک کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کام جاری ہے۔ اہم منصوبوں میں سیلوانے اور نورڈ ویسٹ میڈ کے درمیان ریلوے رابطہ، گرسف سے نورڈ ویسٹ میڈ تک موٹروے کی تعمیر اور موجودہ سڑکوں کے نیٹ ورک کی بہتری شامل ہیں۔

ان منصوبوں کا مقصد بندرگاہ تک رسائی آسان بنانا، تجارتی سامان کی نقل و حمل کو تیز کرنا اور قریبی علاقوں کے ساتھ تجارتی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

ٹینجر میڈ 3 سے سالانہ 45 لاکھ کنٹینرز کی اضافی گنجائش پیدا ہوگی

اجلاس میں ٹینجر میڈ بندرگاہی کمپلیکس کی توسیع کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں ٹینجر میڈ 2 کے مغرب میں ٹینجر میڈ 3 تعمیر کیا جائے گا، جس سے بندرگاہ کی کنٹینر ہینڈلنگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

منصوبے کے تحت 1,200 میٹر طویل برتھس تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ سالانہ 45 لاکھ کنٹینرز کی اضافی ہینڈلنگ کی گنجائش پیدا ہوگی۔ اس منصوبے پر تقریباً 8 ارب مراکشی درہم، یعنی 800 ملین امریکی ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔

نئے کنٹینر ٹرمینل کی تعمیر کے لیے میرسک-اے پی ایم (Maersk-APM) کے ساتھ رعایتی معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔

وسیع تر توسیعی پروگرام میں مسافروں کی آمدورفت اور رول آن/رول آف (Ro-Ro) سہولیات کی گنجائش بڑھانے کے اقدامات بھی شامل ہیں، جبکہ ٹینجر میڈ 2 کو مشرق کی جانب توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

شاہی دفتر کے مطابق، مجوزہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد ٹینجر میڈ بندرگاہ کی سالانہ کنٹینر ہینڈلنگ کی مجموعی صلاحیت دو کروڑ کنٹینرز تک پہنچ سکتی ہے، جس سے یہ دنیا کی دس بڑی بندرگاہوں میں شامل ہونے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔

ان توسیعی اقدامات کا مقصد عالمی سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنا اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے تجارتی سامان کی ترسیل کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

بادشاہ محمد ششم کا علاقائی ترقی اور نوجوانوں کے روزگار پر زور

اجلاس کے دوران بادشاہ محمد ششم نے ہدایت کی کہ دونوں بندرگاہی منصوبوں کے معاشی اور سماجی فوائد ان کے آس پاس واقع صوبوں اور مقامی آبادی تک بھی پہنچنے چاہییں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری کو عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری اور مقامی افراد کے لیے بامعنی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔

بادشاہ نے ابھرتی ہوئی صنعتوں اور بندرگاہوں سے متعلق سرگرمیوں کی ضروریات کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کو تیز کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، خصوصاً نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے۔

شاہی دفتر کے بیان میں ان منصوبوں کو مراکش کی وسیع تر ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد سرکاری سرمایہ کاری، نجی شعبے کی شراکت داری اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے قومی معاشی ترقی کے ساتھ علاقائی ترقی کو بھی یقینی بنانا ہے۔

اجلاس میں شاہی مشیر فواد علی الہما، وزیر داخلہ عبدالوافی لفتیت، وزیر اقتصادیات، خزانہ و عوامی کارکردگی فوزی لقجع، وزیر آلات و آبی وسائل و جنگلات نزار برکہ اور وزیر صنعت، تجارت، سرمایہ کاری و معاشی شمولیت ریاض مزور نے شرکت کی۔

ٹینجر میڈ اسپیشل ایجنسی کے سپروائزری بورڈ اور نورڈ ویسٹ میڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین فواد برینی بھی اجلاس میں موجود تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں اصلاحات فوری نافذ کرنے کی ہدایت، مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کا حکم
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا کی الیکٹرک وہیکل صنعت کے فروغ، ٹیکنالوجی میں جدت اور عالمی سپلائی چین میں کردار بڑھانے پر زور