انڈونیشیا

انڈونیشیا کا اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ عمل پر زور

Read Time:2 Minute, 43 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے قابلِ اعتماد، شفاف اور غیر جانبدارانہ عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کو ایسی مضبوط قیادت درکار ہے جو کثیرالجہتی تعاون کو مستحکم بنا سکے۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے مطابق ملک اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے عمل کا بغور جائزہ لے رہا ہے، خصوصاً 30 اکتوبر کو سلامتی کونسل میں ساتویں غیر رسمی رائے شماری کے انعقاد کے بعد اس معاملے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وزارت خارجہ نے اتوار کو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں کہا کہ انڈونیشیا اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، شفافیت، غیر جانبداری اور کثیرالجہتی تعاون کے پختہ عزم پر مبنی انتخابی عمل کی حمایت کرتا ہے۔

بیان میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے نامزد کردہ لانا نسیبہ کی حالیہ نامزدگی کو بھی جاری انتخابی عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر کیا گیا۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کی تقرری اقوام متحدہ اور عالمی برادری دونوں کے لیے ایک نہایت اہم مرحلے پر ہو رہی ہے۔

وزارت کے مطابق عالمی ادارے کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو مختلف ممالک کو متحد کر سکے، بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دے اور اقوام متحدہ کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنانے کی غرض سے ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھائے۔

انڈونیشیا نے توقع ظاہر کی کہ نئے سیکریٹری جنرل ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور ان کی آواز کو مزید مؤثر بنائیں گے اور ایسے ٹھوس نتائج کے حصول کو یقینی بنائیں گے جن سے تمام ممالک مستفید ہو سکیں۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا عمل تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا، کیونکہ سلامتی کونسل میں ہونے والی تازہ غیر رسمی رائے شماری میں رکن ممالک کے درمیان واضح اتفاقِ رائے سامنے نہیں آیا۔

خبر رساں ادارے ژنہوا کی جانب سے رپورٹ کردہ غیر سرکاری طور پر سامنے آنے والے نتائج کے مطابق کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی سے متعلق کانفرنس (UNCTAD) کی سابق سیکریٹری جنرل ربیکا گرینسپین نمایاں امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں، جنہیں 11 مثبت ووٹ ملے جبکہ چار ارکان نے ان کی امیدواری کی مخالفت کی۔

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نو مثبت ووٹوں اور چار مخالفتی ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ ایک رکن نے اپنی رائے ظاہر نہیں کی۔

انتخابی عمل کے دوران ترکیہ نے بھی یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (OSCE) کے سیکریٹری جنرل سفیر فریدون سینیری اوغلو کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو نامزدگی کا باضابطہ خط ارسال کیا۔

موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری پانچ سالہ مدت 2026 کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے، جبکہ ان کے جانشین سے توقع ہے کہ وہ یکم جنوری 2027 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی دانش اسکولوں کی تعمیر تیز کرنے کی ہدایت، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا حکم
فرانس Next post فرانس، برطانیہ، بحرین اور لائبیریا کا مغربی صحارا سے متعلق مراکش کے خودمختاری منصوبے کی حمایت کا اعادہ