انڈونیشیا

انڈونیشیا کا جنوبی افریقہ میں شیخ یوسف المکاسری کے نام سے میوزیم یا ثقافتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ

Read Time:3 Minute, 20 Second

گاروٹ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ ثقافت نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں معروف صوفی بزرگ اور قومی ہیرو شیخ یوسف المکاسری کے نام سے ایک میوزیم یا ثقافتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کی تعمیر 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

وزارتِ ثقافت کے ڈائریکٹر برائے ثقافتی فروغ وان وان یوگاسوارا نے ہفتے کے روز مغربی جاوا کے علاقے چیپاناس میں بتایا کہ لائسنسنگ کے پیچیدہ مراحل کے باعث رواں سال منصوبے کے ڈیزائن کی تکمیل تک کام محدود رہنے کا امکان ہے، جبکہ تعمیر کا آغاز آئندہ سال کیا جائے گا۔

شیخ یوسف المکاسری کا تعلق جنوبی سولاویسی کے شہر مکاسر سے تھا اور انہیں انڈونیشیا اور جنوبی افریقا دونوں ممالک میں قومی ہیرو کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی قبر اور تاریخی آثار جنوبی افریقا میں موجود ہیں۔

انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے میوزیم کیپ ٹاؤن میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں شیخ یوسف نے ڈچ نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے جلاوطن کیے جانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سال گزارے تھے۔

یوگاسوارا کے مطابق یہ منصوبہ جنوبی افریقا کے دورے کے دوران عوام اور شیخ یوسف کی اولاد کی جانب سے سابق صدر سوسیلو بامبانگ یودھویونو سے میوزیم تعمیر کرنے کی درخواست کے بعد سامنے آیا۔ سابق صدر نے اس تجویز سے اتفاق کیا، جس کے بعد حکومت نے منصوبے کی تیاری شروع کی، تاہم اس وقت فوری طور پر مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کے وزیر ثقافت کے کیپ ٹاؤن کے دورے کے بعد منصوبے کو دوبارہ تقویت ملی، جس کے بعد جنوبی افریقا کے وزیر ثقافت نے بھی انڈونیشیا سے مجوزہ میوزیم کے منصوبے پر پیش رفت کرنے کی درخواست کی۔

وزارتِ ثقافت نے بعد ازاں منصوبے کو عملی شکل دیتے ہوئے گووا سلطنت کے طرزِ تعمیر کو جنوبی افریقا کے گرم اور مرطوب ماحولیاتی حالات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے میوزیم کا ڈیزائن تیار کیا۔

حکومت نے اس منصوبے کے لیے 62 ارب انڈونیشین روپیہ، یعنی تقریباً 3.52 ملین امریکی ڈالر مختص کیے ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ لائسنسنگ کا عمل جلد مکمل ہوجائے گا، جس کے بعد 2027 میں تعمیراتی کام شروع کیا جاسکے گا۔

یوگاسوارا نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ لائسنسنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئندہ سال تعمیر شروع کردی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ میوزیم انڈونیشیا اور جنوبی افریقا کے درمیان تاریخی و ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جنوبی سولاویسی اور وسیع تر انڈونیشی ثقافتی اقدار کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ان کے مطابق مستقبل میں اس میوزیم کو انڈونیشیا کے ثقافتی مرکز میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے، جو مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرے گا۔

شیخ یوسف، جو مکاسر میں پیدا ہوئے، بیرونِ ملک اسلامی تعلیمات اور تصوف کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایک محبِ وطن اور دانشور کی حیثیت سے بھی نمایاں تھے اور انہوں نے اپنی ثقافتی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈچ نوآبادیاتی حکومت نے نوجوانوں میں شیخ یوسف کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں پہلے سری لنکا جلاوطن کیا، جس کے بعد انہیں جنوبی افریقا کے شہر کیپ ٹاؤن منتقل کردیا گیا۔

یوگاسوارا کے مطابق جنوبی افریقا میں قیام کے دوران شیخ یوسف نے اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا اور مقامی برادریوں میں اسلام کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ شیخ یوسف اپنے پیچھے اسلامی تعلیمات اور علمی ورثے کا ایک اہم ذخیرہ چھوڑ گئے، جس نے جنوبی افریقا میں اسلام کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ جنوبی افریقا میں ایک گاؤں کا نام بھی ان کے آبائی علاقے کی نسبت سے مکاسر رکھا گیا ہے۔

شیخ یوسف آج بھی جنوبی افریقا میں ایک قابلِ تقلید شخصیت سمجھے جاتے ہیں، جہاں ان کی یاد اور خدمات کے اعتراف میں سالانہ کرامت فیسٹیول منعقد کیا جاتا ہے۔ ان کے ورثے میں متعدد قدیم مخطوطات شامل ہیں جبکہ ان کی آخری آرام گاہ بھی جنوبی افریقا میں موجود ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
سعودی عرب Previous post سعودی عرب میں ڈرون حملوں کی پاکستان کی شدید مذمت
ویتنام Next post ویتنام کی عالمی تجارتی تنظیم سے تجارتی صلاحیت بڑھانے اور اصلاحات میں تعاون مزید مؤثر بنانے کی اپیل