
انڈونیشیا کے نائب صدر کی اثاثہ ضبطگی بل کی حمایت، بدعنوانی سے لوٹی گئی دولت کی واپسی پر زور
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے نائب صدر گیبران راکابومنگ راکا نے اثاثہ ضبطگی (Asset Forfeiture) بل کی منظوری کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی کے ذریعے لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کے لیے یہ قانون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ہفتہ کے روز اپنے بیان میں نائب صدر نے کہا کہ بدعنوان عناصر کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کرپشن کا انجام صرف قید کی سزا نہیں بلکہ ریاست ان سے غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے تمام اثاثے بھی واپس لے سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کرپشن واچ (Indonesia Corruption Watch) کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے 2022 کے دوران بدعنوانی کے باعث ریاست کو تقریباً 238 کھرب انڈونیشیائی روپیہ (تقریباً 13.24 ارب امریکی ڈالر) کے ممکنہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
گیبران نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق صرف 2024 کے دوران بدعنوانی کے مقدمات میں ریاست کو تقریباً 310 کھرب انڈونیشیائی روپیہ (17.25 ارب امریکی ڈالر) کے ممکنہ نقصانات ہوئے، جبکہ صرف 1.6 کھرب انڈونیشیائی روپیہ (89 ملین امریکی ڈالر) کی رقم ہی برآمد کی جا سکی۔
نائب صدر کے مطابق اثاثوں کی بازیابی کی شرح اب بھی انتہائی کم ہے، کیونکہ 90 فیصد سے زائد غیر قانونی اثاثے غائب ہو جاتے ہیں اور بدستور بدعنوان عناصر یا ان کے اہل خانہ کے فائدے کے لیے استعمال ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہو چکی ہے کیونکہ منظم اور سرحد پار جرائم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خرد برد اور منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
گیبران نے واضح کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی اثاثہ براہِ راست یا بالواسطہ کسی جرم سے حاصل کیا گیا ہے، جس میں بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی کان کنی، غیر قانونی ماہی گیری، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی، آن لائن جوا یا انسانی اسمگلنگ شامل ہو، تو ریاست ایسے اثاثے ضبط کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اثاثہ ضبطگی بل 2003 کے اقوام متحدہ کے انسدادِ بدعنوانی کنونشن (UN Convention against Corruption) پر مؤثر عملدرآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
نائب صدر کے مطابق مجوزہ قانون میں نان کنوکشن بیسڈ اثاثہ ضبطگی (Non-Conviction-Based Asset Forfeiture) کی شق بھی شامل ہے، جس کے تحت ملزم کے انتقال کر جانے یا بیرون ملک فرار ہونے کی صورت میں بھی ریاست اپنے اثاثے واپس حاصل کر سکے گی۔
اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال اور بے گناہی کے اصول سے متعلق خدشات کے پیش نظر گیبران راکابومنگ راکا نے زور دیا کہ بل پر غور و خوض مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جائے اور اس عمل میں قانونی ماہرین سمیت دیگر متعلقہ پیشہ ور افراد کو بھی شامل کیا جائے۔