اسحاق ڈار

آبی تحفظ کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے: اسحاق ڈار

Read Time:2 Minute, 7 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان معاہدوں پر مبنی سرحد پار آبی وسائل کے نظم و نسق کے لیے پُرعزم ہے اور پانی کو کبھی بھی دباؤ، جبر یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے آبی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جمعرات کو برسلز میں "سرحد پار آبی وسائل: ایک عسکریت زدہ عالمی مشترکہ اثاثہ” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے کلیدی خطاب میں اسحاق ڈار نے بین الاقوامی قوانین کے احترام، کثیرالجہتی تعاون کے فروغ اور مشترکہ آبی وسائل کے پُرامن انتظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ سیمینار برسلز میں پاکستان کے سفارت خانے اور سینٹر فار یورپی پالیسی اسٹڈیز (CEPS) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں آبی تحفظ اور سرحد پار آبی وسائل سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیلجیم، لکسمبرگ اور یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے کہا کہ سرحد پار آبی وسائل علاقائی استحکام، عالمی سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے پُرامن راستہ اختیار کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

سیمینار میں ممتاز پالیسی سازوں، محققین، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم اور عملی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء میں وفاقی وزیر سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک، واٹر یورپ کی پالیسی آفیسر میڈالینا سیپیڈا، یوٹریخت یونیورسٹی کی سینئر محقق کیتھی سوئکنز، بین الاقوامی ثالثی کے ماہر فیصل حسین نقوی، سی ای پی ایس کے کلائمیٹ پروگرام کی سربراہ ازابیل شیکن باخ، اور کیپٹیویٹ اسٹریٹیجیز کے بانی و دی پاکستان پلے بک کے ایڈیٹر دانش قیوم شامل تھے۔

سیمینار میں تقریباً ایک سو یورپی پالیسی سازوں، محققین، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، آبی تحفظ، سرحد پار تعاون، قانون پر مبنی نظم و نسق اور مشترکہ آبی وسائل کے پُرامن انتظام سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے تناظر میں بین الاقوامی قوانین اور تعاون پر مبنی نظام کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مشترکہ آبی وسائل کے حوالے سے تنازعات سے بچا جا سکے اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم، خطے میں تاریخی پیش رفت قرار
پٹرولیم Next post پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی، حکومت نے مکمل ریلیف عوام تک منتقل کر دیا