
یومِ شہدائے جموں: صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے سانحہ جموں کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ نومبر 1947 میں سانحہ جموں کے دوران شہید ہونے والے بے گناہ مسلمانوں کی قربانیوں کو یاد رکھے اور آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات پر عملی اقدامات کرے۔
یومِ شہدائے جموں، 6 نومبر 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ اس دن ہم نومبر 1947 میں جموں میں قتل عام کا نشانہ بننے والے بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو عقیدت و احترام سے یاد کرتے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہم ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جن کی زندگیاں تشدد اور جبری نقل مکانی کے باعث تباہ ہو گئیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ 79 سال قبل اسی روز ڈوگرہ حکمران کی افواج نے انتہا پسند مسلح گروہوں کی مدد سے جموں کی مسلم آبادی کے خلاف منظم تشدد کی مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں مرد، خواتین اور بچے شہید ہوئے، جبکہ بے شمار افراد اپنے گھروں اور آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ان مظالم نے جموں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کر دیا اور ایسے زخم چھوڑے جن کے اثرات آج بھی نسل در نسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔ 6 نومبر 1947 کا سانحہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی مشکلات صرف ماضی تک محدود نہیں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹس میں غیر قانونی حراستوں، پُرامن اختلافِ رائے پر پابندیوں، بطور سزا گھروں کو مسمار کرنے اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کو دبانے کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی تشدد، دورانِ حراست اموات اور اجتماعی سزاؤں سے متعلق اطلاعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور پُرامن سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے وسیع اختیارات کے حامل سکیورٹی قوانین کا استعمال عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔
انہوں نے بھارت میں ریاستی سرپرستی سے لطف اندوز ہونے والی انتہا پسند تنظیموں اور دائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں، دیگر مذہبی اقلیتوں اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کے فروغ پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص مئی 2025 میں بھارت کو درپیش فوجی ناکامی کے بعد اس نوعیت کا بیانیہ ملک کے اندر ظلم و امتیاز اور بیرونِ ملک خطرناک جارحانہ اقدامات کو ہوا دے سکتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کا ازالہ ذمہ داران کے احتساب اور کمزور طبقات کے تحفظ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے داخلی مسائل اور ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے فرقہ وارانہ تعصب یا پڑوسی ملک کے خلاف دشمنی کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شہدائے جموں کی یاد ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ہم نفرت کے خلاف کھڑے ہوں، انسانی وقار کا دفاع کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی قوم کو تشدد، امتیاز یا خوف کے ذریعے اس کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔
صدر آصف علی زرداری نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات اور فوجی مہم جوئی سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک ہیں اور ان کے درمیان ایک اور تنازع دونوں ممالک کے عوام اور پورے خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اپریل 2025 کے پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کے بہانے بھارت کی جانب سے گزشتہ سال مئی میں شروع کیا گیا مسلح تنازع ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور مسلسل سفارت کاری کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ فوجی طاقت اور جبر کسی سیاسی تصفیے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد کیے گئے فیصلوں نے کشمیری عوام کے حقوق کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ بھارت کو یہ اقدامات واپس لینے، مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں روکنے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت استعمال کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ ناقابلِ تنسیخ حق ہے جس کی فراہمی کا وعدہ بھارت نے خود کیا تھا، تاہم وہ آج تک اسے پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ وقت گزرنے سے نہ تو کشمیری عوام کے حقوق ختم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی برادری کی انہیں تسلیم اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری کم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت تمام غیر قانونی طور پر زیرِ حراست افراد کو رہا کرے، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا تحفظ یقینی بنائے، بطور سزا گھروں کی مسماری اور اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ بند کرے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا پورے خاندانوں اور برادریوں کو اجتماعی سزا دینے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازع پر اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم ہے اور اس دیرینہ تنازع کو ہر متعلقہ عالمی فورم پر اٹھاتا رہے گا۔ پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر صدر مملکت نے شہدائے جموں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تمام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں جو آج بھی مشکلات اور اپنے پیاروں سے جدائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدائے جموں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جموں و کشمیر کے عوام کو آزادی، امن اور خوشحالی نصیب کرے۔