لاوروف

لاوروف کی آرکٹک میں نیٹو کی بڑھتی فوجی سرگرمیوں پر تشویش، مسلح تصادم کے خطرے سے خبردار

Read Time:2 Minute, 14 Second

ماسکو، یورپ ٹوڈے: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آرکٹک خطے میں نیٹو کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور مسلح تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

’یورپ ٹوڈے‘ کے مطابق، سرگئی لاوروف نے پیر کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ روس آرکٹک کو امن اور تعاون کا خطہ برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم ان کے بقول نیٹو خطے کو عسکریت پسندی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ نیٹو روس کی شمالی سرحدوں کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کر رہا ہے اور اپنے کمانڈ و کنٹرول نظام میں نئے عناصر شامل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اتحاد کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں باہمی عدم اعتماد کو فروغ دے رہی ہیں اور ایسے واقعات کے امکانات میں اضافہ کر رہی ہیں جو مسلح تنازع میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

نیٹو نے بھی آرکٹک اور ہائی نارتھ پر اپنی توجہ میں اضافہ کیا ہے۔ اتحاد نے فروری 2026 میں ’آرکٹک سینٹری‘ اقدام شروع کیا، جس کے مطابق اس کا مقصد بڑھتی ہوئی تزویراتی مسابقت کے تناظر میں آرکٹک اور ہائی نارتھ میں دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔

لاوروف نے خطے میں نیٹو ارکان کی حالیہ فوجی مشقوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ناروے اور فن لینڈ میں ہونے والی مشقوں کا ذکر کیا جن میں 14 ممالک کے تقریباً 32,500 فوجیوں نے حصہ لیا، جبکہ جزیرہ جان ماین پر امریکا، برطانیہ اور ناروے کی افواج کی حالیہ مشق کو بھی نمایاں کیا۔

روسی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ نیٹو ارکان اور دیگر مغربی ممالک آرکٹک کو روس اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ ایک اور تزویراتی مسابقت کے میدان میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے نیٹو اور یورپی یونین کو روس کے لیے براہِ راست سلامتی کا چیلنج قرار دیتے ہوئے روس کے آرکٹک خطے میں توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کو ہدف بنانے والی مغربی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔

تاہم، لاوروف نے کہا کہ ماسکو ان ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے جو تعمیری انداز میں بات چیت اور روس کے مفادات کا احترام کرنے پر آمادہ ہوں۔

آرکٹک خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث نئی بحری گزرگاہوں کے کھلنے اور قدرتی وسائل تک رسائی میں اضافے کے سبب روس اور نیٹو دونوں کے لیے تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

نیٹو کا مؤقف ہے کہ روس نے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جبکہ ماسکو بھی ہائی نارتھ میں نیٹو کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
علم Previous post تاجک صدر کا یومِ علم پر خطاب، تعلیم کے فروغ، امن و اتحاد اور نوجوانوں کی تربیت پر زور
پاکستان Next post ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کی اسٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا