علم

تاجک صدر کا یومِ علم پر خطاب، تعلیم کے فروغ، امن و اتحاد اور نوجوانوں کی تربیت پر زور

Read Time:10 Minute, 23 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے ملک کے 35ویں یومِ آزادی، نئے تعلیمی سال کے آغاز اور یومِ علم کے موقع پر قوم، اساتذہ، طلبہ اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے تعلیم کے معیار میں بہتری، قومی اتحاد کے استحکام اور نوجوان نسل کی بہتر تربیت کو ملکی ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔

صدر امام علی رحمان نے دوشنبے میں سیکنڈری اسکول نمبر 105 کی نئی اور جدید عمارت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجکستان کی ریاستی آزادی، مکمل امن و استحکام اور قومی اتحاد کی بدولت ملک میں تعلیم کے شعبے کے لیے بہترین حالات پیدا کرنے اور بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اسکول جدید سہولیات سے آراستہ ہے اور اس میں 2,400 طلبہ کے لیے تعلیم و تربیت کی گنجائش موجود ہے۔ گزشتہ نو برس کے دوران دوشنبے میں 55 نئے تعلیمی ادارے تعمیر کیے گئے، جن میں 95 ہزار سے زائد طلبہ کے لیے گنجائش ہے، جبکہ 8 ہزار بچوں کے لیے 42 جدید کنڈرگارٹن بھی قائم کیے گئے ہیں۔

صدر نے کہا کہ رواں سال ملک کی 35ویں سالگرہ آزادی کے موقع پر دارالحکومت میں 10 ہزار طلبہ کی گنجائش رکھنے والے سات نئے تعلیمی ادارے اور ایک ہزار بچوں کے لیے آٹھ نئے جدید پری اسکول ادارے فعال کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک بھر میں مجموعی طور پر 4,135 تعلیمی اداروں کی عمارتیں تعمیر اور فعال کی گئی ہیں، جن میں 18 لاکھ طلبہ کی گنجائش ہے، جبکہ اس مقصد پر 8.4 ارب سومونی خرچ کیے گئے ہیں۔

امام علی رحمان نے تعلیم کے شعبے میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے محب وطن تاجروں اور کاروباری شخصیات کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئے تعلیمی اداروں کی تعمیر اور انہیں جدید سہولیات سے آراستہ کرنے میں ان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی، بالخصوص تعلیم کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ریاستی آزادی، سیاسی امن و استحکام اور قومی اتحاد کا نتیجہ ہیں۔ ان کے بقول تاجک عوام کے لیے امن اور اتحاد ریاست اور قوم کے استحکام کے بنیادی عوامل ہیں۔

صدر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ امن و استحکام کی قدر کریں، قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں اور نوجوانوں کی حب الوطنی، انسان دوستی اور قومی اقدار کے جذبے کے ساتھ تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال جون میں تاجکستان کی جانب سے پیش کردہ اقوام متحدہ کی ’’آنے والی نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی دہائی‘‘ سے متعلق قرارداد کی منظوری بھی دنیا بھر میں امن و سکون کے فروغ کے لیے ملک کی مسلسل کوششوں کا ثبوت ہے۔

صدر امام علی رحمان نے اساتذہ اور شعبہ تعلیم سے وابستہ کارکنوں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاستی آزادی کے استحکام، قومی ریاستی اقدار کے فروغ، امن و اتحاد کے قیام اور آزادی کے دور کی نسل کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان کی تاریخ کے مشکل اور پیچیدہ دور میں بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد نے ثابت کیا کہ عقل و دانش، علم و آگہی، صبر و برداشت اور امن و استحکام کے لیے کوششیں بحرانوں پر قابو پانے اور خوشحال مستقبل کی جانب بڑھنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

صدر نے آزادی، امن اور سکون کو تاجک عوام کی مقدس ترین نعمتیں اور عظیم ترین کامیابیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی آزادی نے تاجک قوم کے عالمی برادری میں وجود کو محفوظ بنایا، تاریخی انصاف بحال کیا اور دنیا کے سامنے تاجک قوم کو ایک مہذب، تہذیب ساز، روادار اور امن پسند قوم کے طور پر متعارف کرایا۔

تعلیم اور سائنس کو قومی ترقی کی بنیاد قرار

امام علی رحمان نے کہا کہ قدیم زمانے سے تاجک قوم علم، تعلیم اور کتاب کو زندگی کی روشنی، ریاستی نظام کی بنیاد اور سماجی ترقی کا ذریعہ سمجھتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان اور اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین ریاستوں کا بنیادی سرمایہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حصولِ علم میں مسلسل دلچسپی برقرار رکھیں، اپنی صلاحیتیں نکھاریں اور تخلیق و جدت کے میدان میں آگے بڑھیں۔

صدر نے کہا کہ تاجکستان کی حکومت نے سائنس اور تعلیم کو ریاستی پالیسی کے ترجیحی شعبوں میں شامل کیا ہے اور حکومت بخوبی سمجھتی ہے کہ بچوں اور نوعمروں کی تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری دراصل قوم اور ریاست کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آزادی کے عرصے کے دوران ریاستی بجٹ سے تعلیم کے شعبے کے لیے 70 ارب سومونی سے زیادہ مختص کیے گئے، جبکہ ریاستی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے ذریعے مزید 10 ارب سومونی فراہم کیے گئے۔

پری اسکول تعلیم پر خصوصی توجہ کی ہدایت

صدر نے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا پہلا مرحلہ پری اسکول اداروں سے شروع ہوتا ہے، اس لیے کنڈرگارٹن بچوں کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ 2022-2027 کے لیے پری اسکول اداروں اور نجی عمومی تعلیم کی ترقی کے پروگرام پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پری اسکول تعلیم کا دائرہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے۔

انہوں نے علاقائی، شہری اور ضلعی حکام، وزارت تعلیم و سائنس اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ نئے پری اسکول اداروں کی تعمیر اور ان کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ عملے کی فراہمی پر مزید توجہ دیں۔

نصابی کتب اور تعلیم کے معیار میں بہتری پر زور

صدر نے کہا کہ عمومی ثانوی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں میں تعلیم و تربیت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 کے آغاز سے اب تک تعلیمی محکموں، شہروں اور اضلاع کے اداروں سمیت دیگر تعلیمی مراکز کو 92 لاکھ 15 ہزار نصابی کتب اور تعلیمی مواد فراہم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2026-2027 کے تعلیمی سال کے لیے 40 نئی نصابی کتب کے عنوانات متعلقہ انتخابی عمل سے گزر چکے ہیں اور ان کی اشاعت مرحلہ وار جاری ہے۔

صدر نے وزارت تعلیم و سائنس کو نئی نسل کی نصابی کتب کے معیار اور مواد کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نئے تعلیمی نظام یا بین الاقوامی طریقہ کار کو ملک بھر میں نافذ کرنے سے قبل پائلٹ بنیادوں پر مکمل طور پر جانچا اور تاجکستان کے قومی تعلیمی مقاصد اور اقدار کے مطابق ڈھالا جانا چاہیے۔

اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور

امام علی رحمان نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کا فائدہ یا نقصان اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمومی ثانوی اسکولوں کے طلبہ میں اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کا بے قابو استعمال تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز کا غیرضروری اور حد سے زیادہ استعمال بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت، نیند، گفتگو، یادداشت، تعلیمی صلاحیت، جسمانی سرگرمی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

صدر نے وزارت تعلیم و سائنس، ایجنسی برائے اختراعات و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور ابتدائی و ثانوی پیشہ ورانہ تعلیم کی کمیٹی کو ہدایت کی کہ اس مسئلے کا تین ماہ کے اندر جامع جائزہ لے کر حکومت کو اس کے حل کے لیے تجاویز پیش کی جائیں۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو علم و تعلیم کے حصول کے لیے استعمال کریں، جھوٹی اور متعصبانہ معلومات کے مقابلے میں مزاحمت کی صلاحیت پیدا کریں اور انتہا پسندانہ نظریات سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے معاشرے کی معلوماتی اور نظریاتی سلامتی میں کردار ادا کریں۔

پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنرمندی کی اہمیت اجاگر

صدر نے کہا کہ ملک میں ہنرمند اور قابل افرادی قوت کی تیاری کے لیے ابتدائی اور ثانوی پیشہ ورانہ تعلیم کی ترقی کو ریاستی سماجی و اقتصادی پالیسی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اور ثانوی پیشہ ورانہ تعلیم میں پیشوں اور تخصصات کی تعداد 230 سے بڑھ کر 730 ہو چکی ہے۔ اس وقت ملک میں ابتدائی پیشہ ورانہ تعلیم کے 66 ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں 28 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں تقریباً 8 ہزار طالبات شامل ہیں۔

ثانوی پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تعداد ایک لاکھ 6 ہزار 500 تک پہنچ چکی ہے۔

صدر نے کہا کہ 2026-2029 کے لیے ابتدائی و ثانوی پیشہ ورانہ تعلیم کی ترقی کے پروگرام کی منظوری اس شعبے میں اصلاحات کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وقت کی قدر کریں، علم، جدید پیشوں اور عملی مہارتوں کا حصول یقینی بنائیں، غیرملکی زبانیں سیکھیں اور جدید ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت میں مہارت حاصل کریں۔

اعلیٰ تعلیم میں معیار اور تخصص پر توجہ

صدر امام علی رحمان نے کہا کہ آزادی کے برسوں میں تاجکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب ملک میں 51 انسٹی ٹیوٹس اور یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں، جن میں بعض اداروں کو بین الاقوامی حیثیت بھی حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے تاہم کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار، تجربہ کار اور علمی طور پر اہل اساتذہ کی فراہمی، نصابی کتب کی تیاری، ٹیکنالوجی پارکس، تدریسی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت اور جدید لیبارٹریوں کے قیام سمیت متعدد مسائل حل طلب ہیں۔

انہوں نے وزارت تعلیم و سائنس اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہدایت کی کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ طلبہ اپنے تخصص سے متعلق مضامین پہلے سالوں میں کم اور تیسرے سال سے زیادہ کیوں پڑھتے ہیں، اور تین ماہ کے اندر حکومت کو اس حوالے سے تجاویز پیش کی جائیں۔

صدر نے واضح کیا کہ ملک کو محض ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کی نہیں بلکہ حقیقی طور پر قابل اور ماہر پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سائبر سکیورٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ اور متعلقہ شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں میں درست پیشہ ورانہ انتخاب کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری پر زور

صدر نے کہا کہ نوجوانوں کی مناسب اخلاقی تربیت خاندان سے شروع ہونی چاہیے اور تعلیمی اداروں میں اسے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ والدین پر لازم ہے کہ وہ بچوں کی پرورش اور نشوونما کے لیے صحت مند خاندانی ماحول فراہم کریں جبکہ اساتذہ طلبہ میں وطن، قانون، والدین، قومی اقدار اور انسانی اخلاقیات کے احترام کو فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبے کے اساتذہ اور کارکنان پر نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کی غیرمعمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ مستقبل میں ملک کی صحت، تعمیرات، سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی معیارِ زندگی کا انحصار انہی ماہرین پر ہوگا جنہیں تعلیمی نظام تیار کرتا ہے۔

امن، قومی اتحاد اور آزادی کے تحفظ کا عزم

صدر امام علی رحمان نے موجودہ عالمی صورتحال کو پیچیدہ، بحرانی اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگوں اور مسلح تنازعات کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تحمل، تدبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔

انہوں نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ امن و استحکام، قومی اتحاد اور ریاستی آزادی کی کامیابیوں کا تحفظ کریں اور ملک میں ترقی، تعمیر اور خوشحالی کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔

صدر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ علم، ہنر، حب الوطنی اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تاجکستان کے نوجوان مستقبل میں قومی معیشت کی قوتِ محرکہ، ترقی پسند معاشرے کی مضبوط بنیاد اور آزاد تاجکستان کی ترقی و تعمیر کے تسلسل کی ضمانت بنیں گے۔

آخر میں صدر امام علی رحمان نے شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد، اساتذہ، طلبہ اور پوری قوم کو تاجکستان کی ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ، نئے تعلیمی سال کے آغاز اور یومِ علم کی مبارکباد دیتے ہوئے ملک و قوم کے لیے صحت، خوشحالی، کامیابی اور روشن مستقبل کی دعا کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پریڈ Previous post لیلیٰ علییوا اور اَرزُو علییوا کی باکو میں کلاسک کاروں کی پریڈ اور نمائش میں شرکت
لاوروف Next post لاوروف کی آرکٹک میں نیٹو کی بڑھتی فوجی سرگرمیوں پر تشویش، مسلح تصادم کے خطرے سے خبردار