پاکستان

پاکستان کا عالمی برادری پر ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے مؤثر ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے پر زور

Read Time:3 Minute, 14 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں پر محض بحث تک محدود رہنے کے بجائے عالمی مالیاتی نظام کی اگلی نسل کو منظم کرنے کے لیے مؤثر اور جامع ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی جانب اجتماعی طور پر پیش رفت کریں۔

وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ’’پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین: جدت کے ذریعے ڈیجیٹل فنانس کا فروغ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز ترقی پذیر معیشتوں کو مالیاتی ڈھانچے کو مالی شمولیت، کارکردگی اور رسائی کے اصولوں پر ازسرنو تشکیل دینے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔

یہ بریفنگ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)، اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) اور سیکریٹری جنرل کے ٹیکنالوجی امور کے ایلچی کے دفتر (ODET) کے تعاون سے منعقد کی۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ بنیادی سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجیز بڑے پیمانے پر استعمال ہوں گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کی تشکیل کون کرے گا اور ان کا فائدہ کن کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے ڈیجیٹل فنانس کی بحث میں عام شہریوں کو مرکزیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب بالغ افراد اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ اربوں دیگر افراد مہنگی ترسیلات زر اور محدود قرضوں تک رسائی کے باعث غیر مساوی مالیاتی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے سرحد پار ترسیلات زر کی بلند لاگت کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ 200 ڈالر کی ترسیل کی اوسط لاگت اب بھی پائیدار ترقی کے ہدف (SDG) 10.c کے تحت مقرر کردہ 3 فیصد ہدف سے دوگنا سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اس فرق کو ختم کرنے سے ہر سال اربوں ڈالر براہ راست خاندانوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ڈیجیٹل فنانس کی ترقیاتی صلاحیت صرف ادائیگیوں تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل شناخت اور قابلِ تصدیق مالیاتی ریکارڈ چھوٹے کاروباری اداروں، کسانوں اور خواتین کاروباری افراد کو روایتی ضمانتوں یا دستاویزات کے بغیر اپنی معاشی سرگرمی ثابت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے بانڈز سے لے کر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں تک اثاثوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے سرمایہ متحرک کرنے کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز سرکاری اخراجات اور سپلائی چینز میں شفافیت کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔

تاہم، بلال بن ثاقب نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو خودکار طور پر مسائل کا حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے صارفین کے لیے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، طاقت کے ارتکاز اور ان ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سمیت مختلف خطرات کی نشاندہی کی جن کے پاس جدید ریگولیٹری صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ ممالک جہاں یہ صلاحیتیں محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر رکن ملک کے سامنے انتخاب صرف یہ نہیں کہ ضابطہ بنایا جائے یا نہ بنایا جائے، بلکہ اصل فیصلہ یہ ہے کہ مستقبل کو منظم کیا جائے یا پھر مستقبل کے ہاتھوں خود منظم ہونا پڑے۔

بلال بن ثاقب نے اس امر پر زور دیا کہ ضابطہ سازی کو جدت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر سے تشکیل دیے گئے قوانین صارفین اور مارکیٹوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ خوف کی بنیاد پر کی جانے والی سخت ریگولیشن سرگرمیوں کو کم شفاف ماحول کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھرنے والا اہم سبق یہ ہے کہ ریگولیشن کو مارکیٹ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے مارکیٹ کی تعمیر اور پائیدار ترقی کے لیے معاون ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
سمندر Previous post آرال سمندر کے طاس کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی پروگرام پر وسطی ایشیائی ممالک کا مشاورتی اجلاس
پاکستان Next post پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور