پاکستان

پاکستان کا افغان طالبان حکومت کو شدید احتجاجی مراسلہ، بنوں حملے پر سخت مؤقف اور فیصلہ کن ردعمل کا انتباہ

Read Time:2 Minute, 40 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے پیر کے روز افغان طالبان حکومت کے قائم مقام سفیر (Chargé d’Affaires) کو طلب کر کے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس پوسٹ پر ہونے والے مہلک خودکش حملے پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) پیش کیا اور واضح کیا کہ اسلام آباد اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

یہ اقدام 9 مئی کو ضلع بنوں کے علاقے فتح خیل پولیس پوسٹ پر گاڑی میں نصب بارودی مواد (VBIED) کے ذریعے کیے گئے حملے کے دو روز بعد سامنے آیا، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید اور 4 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک شہری بھی شامل تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری سخت بیان میں کہا گیا کہ تفصیلی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نے کی تھی۔

بیان کے مطابق افغان قائم مقام سفیر کو آج وزارتِ خارجہ Ministry of Foreign Affairs طلب کیا گیا اور انہیں فتح خیل پولیس پوسٹ پر “فتنہ الخوارج” سے وابستہ دہشت گردوں کے جانب سے کیے گئے بزدلانہ حملے پر سخت احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس دیرینہ خدشے کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغان طالبان حکومت اس حوالے سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف “مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات” کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر افغان حکومت کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی یا خاموشی جاری رہی تو پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے لیے سازگار ماحول کے شواہد اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی موجود ہیں۔

پاکستان نے خاص طور پر فتنہ الخوارج، فتنہ الہندستان اور داعش/آئی ایس کے پی (ISKP/Daesh) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے بارہا افغان طالبان Afghan Taliban حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے “برادر اور دوست ممالک” کی ثالثی سے متعدد مذاکراتی ادوار میں بھی افغان فریق کے ساتھ تعمیری بات چیت کی، تاہم کابل حکومت ان گروہوں کے خلاف کسی مؤثر اقدام یا عملی وعدے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ سفارتی اقدام پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حالیہ عرصے میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستانی حکام بارہا یہ مؤقف دہراتے آئے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسے گروہ افغان سرزمین میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں، تاہم افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

بنوں کا حالیہ حملہ سیکیورٹی اہلکاروں پر حالیہ مہینوں میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ملک میں سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر ایک بار پھر بحث کو جنم دیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
دفاع Previous post وزارتِ دفاع کی تقریب: معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر شہداء کو خراجِ عقیدت، مسلح افواج کی کامیابیوں کو سراہا گیا
صدر مملکت Next post صدر مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات: ملکی صورتحال، علاقائی امور اور عوامی ریلیف پر تفصیلی غور