پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار

Read Time:3 Minute, 22 Second

نیویارک، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے سات برس مکمل ہونے پر بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو "ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر عوام کی جائز حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کی اجازت نہ دے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع "دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات” تھا، کہا کہ 5 اگست مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ایک افسوسناک دن ہے، جب بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور بڑی تعداد میں بھارتی فوج کی موجودگی کے سائے میں کشمیری عوام پر مزید سخت پابندیاں عائد کیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ناانصافی، بنیادی حقوق سے محرومی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں، جبکہ 5 اگست 2019 کے اقدامات نے ان پر جبر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر میں ریاستی دہشت گردی کے ایسے تمام مظاہر کو مسترد کرتا ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہ انسداد دہشت گردی کو بیرونی تسلط کے خلاف عوام کی جائز اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جدوجہد کو دبانے کے لیے بطور جواز استعمال نہ ہونے دے۔

افغانستان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے لیے نسبتاً سازگار ماحول پیدا ہوا، جس کے باعث تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (داعش-کے)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور القاعدہ سے وابستہ عناصر پاکستان سمیت خطے کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو بیرونی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ افغان عبوری حکام اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہو۔ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی مالی، عسکری اور سیاسی معاونت کرنے والے بیرونی عناصر کا بھی احتساب کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ دہشت گردی ایک سرحد پار خطرہ ہے جس کا کوئی بھی ملک تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے سرحدی نظم و نسق کو مؤثر بنانے، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، خصوصاً کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے ذریعے ہونے والی مالی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کرنے، اور دہشت گردی کے خلاف بغیر کسی دوہرے معیار کے مربوط عالمی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی (UNOCT) میں انڈر سیکرٹری جنرل کے دفتر کی سربراہ اوگلجیرین نیازبردیئیوا نے کہا کہ عالمی کوششوں کے باوجود داعش بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بدستور ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کی تئیسویں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو سرحدوں سے ماورا وسعت دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے داعش کی مرکزی قیادت کو نقصان پہنچا ہے، تاہم تنظیم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے مختلف خطوں میں موجود اپنی شاخوں کے ذریعے سرگرم رہنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال 2026 اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کی منظوری کی بیسویں سالگرہ کا سال ہے اور موجودہ حالات میں عالمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد اور نان آئل ٹیکس آمدن میں نمایاں اضافہ
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کا معدنیات کے شعبے میں جائیکا کے تعاون کا خیرمقدم، نوجوانوں کی فنی تربیت اور برآمدات میں اضافے پر زور