
پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، اسحاق ڈار
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع بروئے کار لائے گا، جبکہ پاکستان کو اس کے مقررہ حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن و سلامتی پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
منگل کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں "انٹرنیشنل سیمینار آن انڈس واٹرز ٹریٹی 2026” سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، اقتصادی خوشحالی، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام ہزاروں برس سے تہذیبوں کی آبی ضروریات پوری کرتا آیا ہے اور اس کا تحفظ تمام متعلقہ ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سرحد پار بہنے والے دریا ممالک کے درمیان تعاون کا ذریعہ بننے چاہییں، نہ کہ تصادم کا، اور یہ اصول بین الاقوامی قانون میں مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ 1960 میں عالمی بینک کی سرپرستی میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا ایک مستقل قانونی نظام قائم کیا گیا، جس کے مطابق تین مشرقی دریاؤں کا استعمال بھارت کو جبکہ تین مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو مختص کیا گیا، البتہ بھارت کو معاہدے کے تحت محدود نوعیت کے استعمال کی اجازت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کی مستقل حیثیت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے آبپاشی اور آبی انتظامی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں، حالانکہ مشرقی دریاؤں کا پانی بند ہونے کے باعث اسے نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران، جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود، پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کیا کیونکہ اسے یقین تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا نیک نیتی سے احترام کیا جائے گا۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل قرار دینے کے فیصلے کو غیر قانونی، یکطرفہ اور معاہدے یا بین الاقوامی قانون میں کسی بھی بنیاد سے محروم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس اعلان کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی معاہدے، جس میں معطلی یا خاتمے کی گنجائش موجود نہ ہو، اس کی ذمہ داریوں کو کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہی ہے کہ معاہدوں پر نیک نیتی سے عمل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت بھی اس امر کی توثیق کر چکی ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے حقوق و فرائض کے لیے ایک مستقل قانونی نظام فراہم کرتا ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر پابند بین الاقوامی معاہدوں کو نظرانداز کیا گیا تو اس سے عالمی قانونی نظام پر اعتماد مجروح ہوگا اور ریاستوں کے درمیان پرامن تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 کے بعد پاکستان نے دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بہاؤ میں اچانک تبدیلیاں اور ایسے آبی ڈھانچوں کی توسیع کی کوششیں دیکھی ہیں جو پاکستان کے لیے مختص پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے گزشتہ چھ دہائیوں سے قائم تعاون پر مبنی فریم ورک متاثر ہو رہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام تنازعات کا حل صرف اسی معاہدے میں موجود طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے، نہ کہ یکطرفہ اقدامات کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ریاستیں بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہیں اور معاہدوں پر عمل درآمد کو قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی سمجھتی ہیں۔ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطرناک نظیر قائم کرے گی، قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کمزور کرے گی اور بین الریاستی تعاون کو نقصان پہنچائے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد عوام کے لیے پانی زندگی کی علامت ہے، جبکہ ملک کی زراعت، توانائی کی پیداوار، غذائی تحفظ اور اقتصادی ترقی کا انحصار معاہدے کے تحت پاکستان کو مختص مغربی دریاؤں کے مسلسل بہاؤ پر ہے۔
انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ کے بیج بونے اور خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے، اور کہا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے معاملے میں کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں چھوڑے گا اور اگر سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے جائز حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے علاقائی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے آبی حقوق میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ، کمی یا پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کو اقدامِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، "ہم اپنے اس مؤقف پر پوری طرح قائم ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کے حقوق نہ تو متاثر ہوں اور نہ ہی ان کا استحصال کیا جائے۔”
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کا داعی رہا ہے، جبکہ حالیہ بین الاقوامی کشیدگی کے دوران مذاکرات میں سہولت کاری کی پاکستانی کوششیں اس کے مثبت اور تعمیری کردار کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دوسری جانب بھی سنجیدہ آمادگی موجود ہو تو پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل پر جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ علاقائی امن، استحکام اور تعاون کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے بلکہ انہیں بین الاقوامی قانون، تعاون، مکالمے اور باہمی احترام کی بنیاد پر موجودہ اور آنے والی نسلوں کے مفاد میں استعمال کیا جانا چاہیے۔