پرابوو

صدر پرابوو سوبیانتو کا نہضۃ العلماء کے قومی کردار کو خراجِ تحسین، سیاسی استحکام میں تنظیم کی اہمیت پر زور

Read Time:1 Minute, 59 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے ملک کی ممتاز اسلامی تنظیم نہضۃ العلماء (این یو) کے قومی سیاست میں مضبوط کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم حکومت اور مختلف سیاسی جماعتوں میں وسیع نمائندگی رکھتی ہے، جس کی بدولت اس کا اثر و رسوخ پورے ملک میں نمایاں ہے۔

صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر پرابوو نے مشرقی جاوا کے ضلع بنگکالان میں اسلامی علما کی قومی کانفرنس اور نہضۃ العلماء کی گرینڈ کانفرنس 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریڈ اینڈ وائٹ کابینہ میں این یو کے متعدد اراکین شامل ہیں۔ یہ ایک عظیم اور ہمہ گیر تنظیم ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں نمائندگی رکھنے کے باعث این یو کبھی شکست نہیں کھا سکتی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ نہضۃ العلماء سیاست سیکھنے کے لیے ایک مثالی ادارہ ہے، کیونکہ اس کا تنظیمی ڈھانچہ ملک بھر میں نچلی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور یہ عوامی سطح پر گہرا اثر رکھتی ہے۔

صدر پرابوو نے این یو کو ایک ایسی مذہبی و سماجی تنظیم قرار دیا جو طویل عرصے سے قوم پرستی اور حب الوطنی سے وابستہ رہی ہے اور جس کی خدمات انڈونیشیا کی آزادی سے قبل کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اپنے ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا بچپن انڈونیشیا کے چوتھے صدر اور این یو کی ممتاز شخصیت عبدالرحمن واحد (گس دور) کے خاندان کے ہمسایہ علاقے میں گزرا، جبکہ ان کی دادی بھی اس تنظیم کی رکن تھیں۔

صدر نے نہضۃ العلماء کو قومی استحکام کا ایک قابلِ اعتماد ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں یہ تنظیم ہمیشہ قوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ ان کے بقول، ’’این یو کا بڑا خاندان ہر اس وقت موجود رہا ہے جب انڈونیشی قوم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تنظیم ملک اور ریاست کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

انہوں نے یہ خطاب مدورا جزیرے کے شہر بنگکالان میں واقع شیخونا محمد خلیل اسلامک انسٹی ٹیوٹ میں کیا۔

تقریب میں متعدد اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی، جن میں رابطہ کار وزیر برائے انفراسٹرکچر و علاقائی ترقی آگس ہری مورتی یودھویونو، رابطہ کار وزیر برائے غذائی امور ذوالکفلی حسن، وزیر توانائی و معدنی وسائل بہلیل لہدالیا، وزیر مذہبی امور نصرالدین عمر اور وزیر برائے خواتین و بچوں کے تحفظ عارفہ فوزی شامل تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
بجٹ Previous post قومی اسمبلی نے بجٹ 2026-27 کی منظوری دے دی، اجلاس کل تک ملتوی
ایران Next post پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کا فضائی استقبال