
قازق صدر توکایف کا روسی صدر پیوٹن کو ’بہترین مدبر‘ قرار دیتے ہوئے یوکرین میں جنگ بندی پر زور
برلن، ، یورپ ٹوڈے: قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’’بہترین مدبر‘‘ قرار دیتے ہوئے یوکرین میں جاری جنگی کارروائیوں کو منجمد کرنے اور اس کے بعد سفارتی مذاکرات کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
برلن میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر توکایف نے کہا کہ موجودہ حالات میں یوکرین میں فوری طور پر جنگ کا مکمل خاتمہ شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔ انہوں نے اس کے بجائے یوکرین کی سرزمین پر جاری جنگی کارروائیوں کو منجمد کرنے کو مذاکراتی عمل کی جانب منتقلی کے لیے ایک ممکنہ قدم قرار دیا۔
قازق صدر نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یوکرین کے معاملے پر قازقستان کے مؤقف کو سمجھا۔ انہوں نے پیوٹن کو ’’بہترین مدبر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر میں ایک بڑی ریاست، اس کی پیچیدہ تاریخ اور اس کے تزویراتی مفادات کی قیادت کے لیے ضروری خصوصیات موجود ہیں۔
صدر توکایف نے واضح کیا کہ قازقستان روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قازقستان اور روس کے درمیان 7,597 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے اور ملک کی ترقی کے لیے امن و استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں صورتحال سے قطع نظر قازقستان روس اور یوکرین دونوں کو اپنے دوست ممالک سمجھتا رہے گا۔