روس

روس یوکرین تنازع کا حل تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کے احترام اور سفارت کاری میں مضمر ہے، روسی سفیر

Read Time:6 Minute, 1 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوروف نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے تنازع کا پائیدار حل باہمی احترام، انصاف اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنے پر مبنی سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے تنازع کے تاریخی پس منظر، جغرافیائی سیاسی پہلوؤں اور عالمی سطح پر اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے غیر جانب دارانہ اور تحقیقی مطالعے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

روسی سفیر نے ان خیالات کا اظہار 29 اکتوبر 2026ء کو اسلام آباد میں منیر احمد کی تصنیف ’’یوکرین وار: بیونڈ دی ہیڈلائنز — روس اور یوکرین بحران کا ایک متبادل بیانیہ‘‘ (Ukraine War: Beyond the Headlines – An Alternative Narrative on the Russia–Ukraine Crisis) کی تقریبِ رونمائی سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کتاب کی اشاعت پر مصنف کو مبارک باد دیتے ہوئے اسے یورپ کے سلامتی بحران کے علمی اور تحقیقی جائزے میں ایک اہم کاوش قرار دیا۔ انہوں نے کتاب کے تحقیقی انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس میں سرکاری دستاویزات، اقوام متحدہ کی رپورٹس، بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات اور عوامی سطح پر دستیاب مستند معلومات سے استفادہ کیا گیا ہے۔

سفیر خوروف نے کہا کہ کتاب میں تنازع کے تاریخی پس منظر، اس کے جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں اور بین الاقوامی سلامتی پر اس کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص عالمی غذائی تحفظ، توانائی کی منڈیوں، بحیرہ اسود کی صورتحال، نیٹو کے کردار، یورپی سلامتی کے مستقبل اور کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرتے ہوئے رجحان سے متعلق ابواب کو اہم قرار دیا۔

ان کے مطابق یہ تصنیف تنازع کے بارے میں ایک متبادل نقطۂ نظر پیش کرتی ہے اور قارئین کو رائج ذرائع ابلاغ کے بیانیوں سے آگے بڑھ کر اس کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔

روسی سفیر نے نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع، فروری 2014ء میں کیف کے واقعات اور منسک معاہدوں پر عمل درآمد میں ناکامی کو کشیدگی میں اضافے کے اہم عوامل قرار دیا۔ یہ مؤقف یوکرین بحران کے آغاز سے متعلق روس کے دیرینہ سرکاری مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تنازع کو صرف فروری 2022ء کے واقعات تک محدود کرکے نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ روس کے سلامتی سے متعلق خدشات کئی دہائیوں سے حل طلب رہے ہیں۔

انہوں نے نیٹو، یورپی یونین اور یوکرینی قیادت کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات، سفارتی کوششوں کی ناکامی اور امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے نے جاری کشیدگی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔

روسی سفیر نے تنازع کے وسیع تر اقتصادی اور سیاسی اثرات، بالخصوص یورپی ممالک کو درپیش توانائی کی قلت، صنعتوں کے زوال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مغربی ممالک میں متبادل نقطۂ نظر پر پابندیوں اور آزادیٔ اظہار پر بڑھتی ہوئی قدغنوں پر بھی تنقید کی۔

ماسکو کے بیان کردہ مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس اپنی سرحدوں کا تحفظ اور یورپ میں مساوی اور ناقابلِ تقسیم سلامتی کے اصولوں پر مبنی نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے نازی ازم کی مبینہ ستائش اور ڈونباس سمیت دیگر علاقوں میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک کی مخالفت کو بھی روس کے مؤقف کا حصہ قرار دیا۔

تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور پائیدار سلامتی کی ضمانتوں پر مبنی سیاسی و سفارتی تصفیے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب انہوں نے یوکرین کو مغربی ممالک کی جانب سے مسلسل فوجی امداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جدید اور زیادہ جدید ہتھیاروں کی فراہمی تنازع کو طول دے رہی ہے۔

عالمی غذائی تحفظ اور زرعی منڈیوں پر تنازع کے اثرات

روسی سفیر کے خطاب کا ایک اہم حصہ عالمی غذائی تحفظ اور بین الاقوامی زرعی منڈیوں میں روس اور یوکرین کے کردار سے متعلق تھا۔

2025ء-2026ء کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے البرٹ پی خوروف نے کہا کہ عالمی گندم کی تجارت میں یوکرین کا حصہ تقریباً سات فیصد جبکہ روس کا حصہ 23 فیصد ہے۔ اسی طرح جو کی عالمی تجارت میں یوکرین کا حصہ پانچ فیصد اور روس کا 20 فیصد بتایا گیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یوکرین کی زرعی برآمدات کا ایک بڑا حصہ افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کے بجائے یورپی یونین اور دیگر مغربی منڈیوں کی جانب جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس زرعی اجناس اور کھادوں کا ایک اہم عالمی سپلائر ہے اور بین الاقوامی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اس کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

روسی سفیر نے مغربی پابندیوں اور روسی بحری سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی زرعی سپلائی چین کو متاثر کرنے اور عالمی غذائی تحفظ کے لیے خطرات پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

بحیرہ اسود کے اناج معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس نے اس معاہدے میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی تھی، تاہم ان کے بقول مغربی فریقوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں بالآخر یہ معاہدہ ختم ہوگیا۔

انہوں نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اناج اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل کرنے والے شہری تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات بحری آمدورفت کی آزادی، بین الاقوامی سمندری سلامتی اور غذائی اشیا کی بلا تعطل ترسیل کے لیے خطرہ ہیں۔

پاکستان کے متوازن مؤقف کو سراہا

پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے سفیر البرٹ پی خوروف نے یوکرین تنازع پر پاکستان کے متوازن مؤقف کو سراہا اور اسے ’’مثبت غیر جانب داری‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ روس بین الاقوامی حالات کے بارے میں پاکستان کے آزادانہ جائزے، مکالمے کے فروغ کے عزم اور اس حقیقت کے اعتراف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات محاذ آرائی اور تقسیم کے ذریعے حل نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے پاکستان کے ساتھ غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے، اقتصادی تعاون مضبوط بنانے، علاقائی استحکام کے فروغ اور زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرنے کے روسی عزم کا اعادہ کیا۔

روسی سفیر نے توانائی، زرعی مصنوعات اور کھادوں کے ایک قابلِ اعتماد عالمی سپلائر کے طور پر روس کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ روس مکالمے اور امن کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی پائیدار تصفیے کی بنیاد انصاف، باہمی احترام اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنے پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ منیر احمد کی کتاب قارئین، محققین اور طلبہ کو تاریخی حقائق کا مطالعہ کرنے، بین الاقوامی پیش رفت کا تنقیدی جائزہ لینے اور یوکرین تنازع کے وسیع تر عالمی اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کی ترغیب دے گی۔

روسی سفیر نے ایک مرتبہ پھر مصنف کو مبارک باد دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ تصنیف علمی تحقیق، باخبر مکالمے اور عصرِ حاضر کی عالمی صورتحال کو سمجھنے کے عمل میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کا بارودی سرنگوں کی صفائی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے عالمی تعاون بڑھانے پر زور
شہباز شریف Next post پاکستان اور ترکیہ کے سیاسی و تزویراتی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف