
آذربائیجان کا بارودی سرنگوں کی صفائی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے عالمی تعاون بڑھانے پر زور
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان نے اپنے آزاد کرائے گئے علاقوں میں بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود سے لاحق خطرات کے پیش نظر انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگوں کی صفائی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے عالمی تعاون میں اضافے پر زور دیا ہے۔
یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں آذربائیجان کے مستقل مشن کی کونسلر ناہیدہ باغیرووا نے 29 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات کی صورت میں موجود دھماکہ خیز مواد کا مسلسل خطرہ آذربائیجان کے جنگ کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
ناہیدہ باغیرووا نے انکشاف کیا کہ نومبر 2020ء سے اب تک بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود کے واقعات سے 443 افراد متاثر ہوچکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگوں کی صفائی کی صلاحیت بڑھانے اور عالمی برادری سے مزید معاونت حاصل کرنے کی فوری ضرورت کا عکاس قرار دیا۔
آذربائیجانی سفارت کار نے جنگ کے بعد بحالی کے لیے ملک کے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں ’’گریٹ ریٹرن پروگرام‘‘ (عظیم واپسی پروگرام) نمایاں ہے۔ اس پروگرام کا مقصد اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے آبائی علاقوں میں محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار واپسی کو ممکن بنانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام کے تحت خواتین اور لڑکیوں کی سماجی و اقتصادی سرگرمیوں اور تعمیرِ نو کے عمل میں فعال شرکت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ناہیدہ باغیرووا کے مطابق ان چیلنجز کے باوجود تقریباً 96 ہزار افراد دوبارہ تعمیر کیے گئے شہروں اور دیہات میں واپس آچکے ہیں، جہاں وہ اب رہائش اختیار کرنے کے ساتھ مختلف شعبوں میں کام بھی کر رہے ہیں۔
لاپتہ افراد کا معاملہ بدستور اہم انسانی مسئلہ
خطاب کے دوران ایک اور اہم انسانی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ناہیدہ باغیرووا نے کہا کہ سابقہ تنازع کے دوران لاپتہ ہونے والے آذربائیجانی شہریوں کے بارے میں معلومات کا حصول بدستور ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں حقائق معلوم کرنے اور اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے آذربائیجان کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنسوں، بالخصوص ’’باکو ڈائیلاگ آن مسنگ پرسنز‘‘ کا بھی حوالہ دیا، جو انسانی مسائل کے حوالے سے عالمی شعور اجاگر کرنے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
آذربائیجانی سفارت کار نے لاپتہ افراد اور مسلح تنازعات کے دوران یرغمال بنائی گئی یا حراست میں لی گئی خواتین اور بچوں کی رہائی سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو فروغ دینے کے لیے آذربائیجان کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
امن و سلامتی کے عمل میں خواتین کی مؤثر شرکت پر زور
خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 کا حوالہ دیتے ہوئے ناہیدہ باغیرووا نے کہا کہ امن کے قیام، سلامتی کے اقدامات اور جنگ کے بعد بحالی کے عمل میں خواتین کی مکمل اور مساوی شرکت یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے تنازعات کے بعد متاثرہ علاقوں میں خواتین کو بااختیار بنانے اور کمیونٹیز کی تعمیرِ نو اور سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل میں ان کے بامعنی کردار کو یقینی بنانے کے لیے آذربائیجان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں تمام اقدامات قومی اور بین الاقوامی قانونی ضوابط کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
آذربائیجان کے اس خطاب میں انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگوں کی صفائی، اندرونِ ملک بے گھر افراد کی واپسی، لاپتہ افراد کے معاملات کے حل اور امن و تعمیرِ نو کے عمل میں خواتین کی مؤثر شرکت جیسے باہم مربوط انسانی اور سماجی چیلنجز کو اجاگر کیا گیا۔