تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس سے متعلق ڈیولپمنٹ کانفرنس میں ڈاکٹر حفیظ پاشا کا خطاب

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بھارت اور بنگلہ دیش سے 25 فیصد زیادہ، حد 12 لاکھ کی جائے: ڈاکٹر حفیظ پاشا

Read Time:2 Minute, 14 Second

کراچی، یورپ ٹوڈے اردو: سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ خطے کے دیگر ممالک، بالخصوص بھارت اور بنگلہ دیش، کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قابلِ ٹیکس آمدنی کی سالانہ حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے اور انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 30 فیصد مقرر کی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک ڈیولپمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں ملک کے ممتاز سیاسی رہنماؤں اور معاشی ماہرین نے شرکت کی اور عوام دوست اصلاحات کے ساتھ ساتھ طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا۔

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا تقابلی جائزہ

ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے کانفرنس کو بتایا کہ پاکستان میں زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار ملازمین پر عائد ٹیکس کی شرح بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق زیادہ آمدنی والے طبقات کے معاملے میں پاکستان کے تنخواہ دار ملازمین پر ٹیکس کی شرح بھارت اور بنگلہ دیش میں اسی طبقے پر عائد شرح سے 25 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ وہ شعبہ ہے جس کا ٹیکس آمدنی کے ذریعے پر ہی کٹ جاتا ہے، اس لیے ٹیکس کے نظام میں اس طبقے کو ریلیف دینا معاشی انصاف کا تقاضا ہے۔ ان کی تجاویز کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدنی کی سالانہ حد دگنی کر کے 12 لاکھ روپے کرنے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح کو 30 فیصد تک محدود کرنے سے متوسط اور تنخواہ دار طبقے پر مالی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ٹیکس اصلاحات اور طرزِ حکمرانی پر مطالبات

کانفرنس میں شریک مقررین نے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اصلاحات ناگزیر ہیں۔ مقررین نے طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں، شفافیت اور معاشی پالیسیوں میں عام شہری کے مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والی شخصیات

کانفرنس سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سید نوید قمر، ڈاکٹر فاروق ستار، مفتاح اسماعیل، خرم دستگیر خان، اسد عمر، سید علی حیدر زیدی، مزمل اسلم، ڈاکٹر قیصر بنگالی، احمد اقبال چوہدری، نور احمد، سلیمان غنی اور عبدالغفران میمن نے بھی خطاب کیا اور ملکی معیشت، ٹیکس نظام اور گورننس سے متعلق اپنی آراء پیش کیں۔

مبصرین کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے قومی معاشی بحث کا اہم موضوع رہا ہے، اور ماہرین کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجاویز آئندہ بجٹ سازی کے عمل میں پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان 2026 کی کامیابیوں پر اسلام آباد میں ترکمانستان کے سفارتخانے کی پاکستانی میڈیا کو بریفنگ Previous post ترکمانستان 2026: سفارتخانے کی پاکستانی میڈیا کو بریفنگ، تاپی منصوبے اور قومی کامیابیوں پر روشنی
پیسکو آپریشن کے دوران پشاور میں ہائی لاسز ٹرانسفارمرز کے خلاف کارروائی Next post پیسکو کا ہائی لاسز ٹرانسفارمرز کے خلاف آپریشن، رشید گڑھی میں 72 لاکھ کے نادہندہ 4 ٹرانسفارمرز کی بجلی منقطع