
ترکمانستان 2026: سفارتخانے کی پاکستانی میڈیا کو بریفنگ، تاپی منصوبے اور قومی کامیابیوں پر روشنی
آزادی کی 35ویں سالگرہ کا سال: "آزاد، مستقل غیر جانبدار ترکمانستان — آسمانی گھوڑوں کا وطن”
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے اردو: ترکمانستان کے سفارتخانے نے پاکستانی میڈیا کے لیے ایک خصوصی بریفنگ کا اہتمام کیا، جس میں سال 2026 کے دوران ترکمانستان کی قومی کامیابیوں، بین الاقوامی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ سے متعلق اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2026 ترکمانستان کی سیاسی، معاشی، ثقافتی اور بین الاقوامی زندگی میں اہم سنگ میلوں کا سال رہا ہے۔ ملک اپنی آزادی کی 35ویں سالگرہ منا رہا ہے اور امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد پر اپنی اسٹریٹجک ترقیاتی ترجیحات، بین الاقوامی شراکت داریوں اور علاقائی تعاون کو آگے بڑھا رہا ہے۔
سال بھر ترکمانستان نے متعدد بڑے قومی اور بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کی اور ان میں شرکت کی، جن میں سربراہانِ مملکت، حکومتی نمائندے، سفارتکار، سرمایہ کار، کاروباری رہنما اور بین الاقوامی ماہرین شریک ہوئے۔ اعلیٰ سطحی علاقائی سربراہی اجلاسوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری فورمز سے لے کر توانائی، بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اقدامات تک، یہ تمام سرگرمیاں عالمی برادری کے ساتھ ترکمانستان کے مسلسل روابط کی عکاس ہیں۔ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے، بالخصوص توانائی، نقل و حمل، تجارت اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں، خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ترکمانستان 2026: اہم قومی تقریبات اور کامیابیاں
4 سے 6 ستمبر 2026 تک نیدرلینڈز میں اخال تکے گھوڑوں کی گھڑ سواری اور خوبصورتی کی پہلی عالمی چیمپئن شپ منعقد ہوئی۔ اس ایونٹ نے ترکمانستان کے افسانوی اخال تکے گھوڑوں کے منفرد ورثے کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی، جو ملک کی قومی شناخت، ثقافتی روایات اور تاریخی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
23 ستمبر 2026 کو عشق آباد کے مصلحت کوشگی محل میں ترکمانستان کی خلق مصلحتی (عوامی کونسل) کا اجلاس ترکمن عوام کے قومی رہنما اور خلق مصلحتی کے چیئرمین گربان گلی بردی محمدوف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی رہنما، صدرِ ترکمانستان سردار بردی محمدوف اور دیگر مقررین نے آزادی کے برسوں میں ملک کی کامیابیوں، ریاستی ترقی کے ترجیحی شعبوں اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ شرکاء نے متعدد اہم اسٹریٹجک دستاویزات کی منظوری دی جن پر بعد ازاں صدر سردار بردی محمدوف نے دستخط کیے، ان میں 2030 تا 2045 کے لیے ترکمانستان کی صنعتی ترقی کی قومی حکمت عملی، "بین الاقوامی قانون اور ترکمانستان کی غیر جانبداری” کا قومی تصور، اور 2031 تک کی مدت کے لیے ریاستی یوتھ پالیسی کا پروگرام شامل ہیں۔ یہ دستاویزات ملک کی طویل المدتی ترقی، صنعتی جدت، بین الاقوامی روابط اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی اہم سمتوں کا تعین کرتی ہیں۔
27 ستمبر 2026 کو ترکمانستان نے اپنی آزادی کی 35ویں سالگرہ ملک بھر میں شاندار تقریبات کے ساتھ منائی۔ مرکزی تقریبات عشق آباد میں منعقد ہوئیں جن میں فوجی پریڈ شامل تھی، جس میں صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر انچیف، آرمی جنرل سردار بردی محمدوف نے شرکت کی۔ پروگرام میں فوجی دستوں اور جدید سازوسامان کی نمائش، فضائی پریڈ، بحیرۂ کیسپین میں بحری پریڈ اور ترکمانستان کی تاریخ، قومی روایات اور پرامن ترقی کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے والی ثقافتی پرفارمنسز شامل تھیں۔ تقریبات کا اختتام دارالحکومت میں رنگا رنگ کنسرٹ اور شاندار آتش بازی کے ساتھ ہوا۔
سرمایہ کاری اور معاشی مواقع میں اضافہ
یکم اور 2 اکتوبر 2026 کو عشق آباد میں ترکمانستان انویسٹمنٹ فورم (TIF 2026) منعقد ہوا، جس میں سرمایہ کاروں، اختراع کاروں، مالیاتی اداروں، پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ فورم میں پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک کی 200 سے زیادہ کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والے 800 سے زائد مندوبین اور مہمان شریک ہوئے۔ فورم کا ایک اہم نتیجہ ترکمانستان کی ریاستی وزارتوں اور اداروں کی جانب سے دو طرفہ دستاویزات، تجارتی معاہدوں اور تعاون کی یادداشتوں کے ایک وسیع پیکیج کو حتمی شکل دینا تھا۔
علاقائی اور بین الاقوامی مکالمے کا پلیٹ فارم: آوازہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس
اکتوبر 2026 کے دوران آوازہ کے قومی سیاحتی زون میں اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اجلاسوں اور کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہا، جس نے علاقائی مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ میں ترکمانستان کے کردار کی توثیق کی۔
7 اکتوبر 2026 کو آوازہ میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم بین الاقوامی و علاقائی پیش رفت، خارجہ پالیسی میں ہم آہنگی اور رکن ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ترکمانستان کی صدارت اور سی آئی ایس کی 35ویں سالگرہ کے پیش نظر 2026 میں دولتِ مشترکہ کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اسی روز آمو دریا اور سیر دریا کے آبی وسائل کے معقول استعمال پر وسطی ایشیائی ریاستوں کا اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفود نے موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور مشترکہ آبی وسائل کے پائیدار استعمال سے متعلق قومی رپورٹس پیش کیں اور آبی انتظام میں علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا۔
7 اکتوبر کو ہی "امن کے قیام اور پائیدار ترقی کے حصول میں خواتین کا کردار” کے عنوان سے بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ منعقد ہوا، جس میں خواتین کے حقوق، مساوی مواقع اور قومی سطح پر جامع طرزِ عمل کے فروغ کی علاقائی کوششوں کو اجاگر کیا گیا اور اختتام پر ایک حتمی دستاویز منظور کی گئی۔ اسی دن "آبادیاتی عمل اور پائیدار ترقی: عصری چیلنجز اور بین الاقوامی تجربہ” کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس بھی ہوئی، جس میں آبادی سے متعلق اشاریوں کو طویل المدتی سماجی و معاشی منصوبہ بندی میں شامل کرنے پر زور دیا گیا۔
8 اکتوبر 2026 کو آوازہ میں وسطی ایشیائی ممالک اور جمہوریہ آذربائیجان کے سربراہانِ مملکت کا آٹھواں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ترکمن عوام کے قومی رہنما گربان گلی بردی محمدوف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے گزشتہ برس اگست میں آوازہ میں ملاقات کے دوران سب سے پہلے انہیں مشاورتی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ 2026 کا یہ اجلاس اس علاقائی فارمیٹ میں آذربائیجان کی بطور مکمل رکن پہلی شرکت تھی۔ مذاکرات کے بعد شرکاء نے مشاورتی اجلاس کی ریگولیٹری دستاویزات سے متعلق فیصلہ اور آٹھویں مشاورتی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ منظور کیا۔ قومی رہنما نے کہا کہ مشاورتی اجلاس شراکت داری کے ذریعے اہم علاقائی مسائل کے حل کا مؤثر پلیٹ فارم بن چکے ہیں اور علاقائی دائرے سے بڑھ کر بین الاقوامی اہمیت حاصل کر چکے ہیں۔
9 اکتوبر 2026 کو آوازہ میں سی آئی ایس کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پہلی بار ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں سیاسی و سفارتی، تجارتی و معاشی اور ثقافتی و انسانی تعاون پر بات چیت ہوئی، جبکہ ایک اہم فیصلے کے تحت سال 2029 کو "سی آئی ایس ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی کا سال” قرار دیا گیا۔ اسی روز پہلی کیسپین ماحولیاتی سربراہی کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں بحیرۂ کیسپین اور اس کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا اور سربراہانِ مملکت نے مربوط کوششوں کے عزم پر مبنی فیصلہ منظور کیا۔
توانائی، تعمیرات اور صنعتی شعبوں کی ترقی
21 سے 23 اکتوبر 2026 تک عشق آباد میں 31ویں بین الاقوامی کانفرنس و نمائش "آئل اینڈ گیس آف ترکمانستان 2026” (OGT 2026) منعقد ہوئی، جس میں 75 ممالک کی تقریباً 450 کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والے 1,500 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہونے والے گلکنیش گیس فیلڈ کی مزید ترقی، ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن پر پیش رفت، گیس برآمدی راستوں کے تنوع، بحیرۂ کیسپین کے ترکمن حصے میں بین الاقوامی تعاون اور گیس پراسیسنگ و پیٹروکیمیکل صنعتوں کی توسیع پر توجہ مرکوز رہی۔ اس موقع پر چین، ملائیشیا، قازقستان اور ازبکستان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پانچ دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
3 سے 5 نومبر 2026 تک عشق آباد میں تعمیرات، صنعت اور توانائی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس و نمائش CIET 2026 منعقد ہوئی، جس میں سرکاری نمائندوں، بین الاقوامی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، آرکیٹیکٹس اور انجینئرز نے شرکت کی۔ کانفرنس میں تعمیرات و شہری ترقی، صنعتی جدت، کیمیکل و پیٹروکیمیکل پیداوار، توانائی کی ترقی و استعداد، ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔
ترکمانستان-پاکستان تعاون: توانائی اور علاقائی روابط میں اسٹریٹجک شراکت داری
بریفنگ میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون ترکمانستان اور پاکستان کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ اس شراکت داری کا مرکزی منصوبہ تاپی گیس پائپ لائن ہے، جو ترکمانستان کے گلکنیش گیس فیلڈ سے جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے لیے پیش کیے گئے آزاد جائزوں کے مطابق گلکنیش فیلڈ میں تقریباً 27 کھرب مکعب میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔
تاپی منصوبے سے پاکستان کے لیے متعدد اہم مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ترکمن گیس تک رسائی سے پاکستان کی توانائی سلامتی مضبوط اور فراہمی کے ذرائع متنوع ہو سکتے ہیں، گیس کی قابلِ اعتماد فراہمی گھریلو، صنعتی اور تجارتی شعبوں کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہو گی، شریک ممالک کے درمیان معاشی باہمی انحصار اور تعاون میں اضافہ ہو گا، صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، اور سرحد پار معاشی انفراسٹرکچر علاقائی استحکام اور پرامن تعاون کو تقویت دے گا۔
تاپی منصوبے کے ساتھ اضافی علاقائی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ افغانستان اور پاکستان سے گزرنے والی پائپ لائن راہداری کے ساتھ 1,635 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک مواصلاتی لائن بچھانے کا منصوبہ ہے، جو پائپ لائن کی نگرانی کے ساتھ ساتھ یورپ، ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو 100 جی بی پی ایس تک کی مجوزہ صلاحیت کے ساتھ تیز رفتار ٹیلی کمیونیکیشن رابطہ فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ ترکمانستان-افغانستان-پاکستان (تاپ) بجلی ترسیلی منصوبہ بھی اس پروگرام کا حصہ ہے، جو تاپی پائپ لائن اور متعلقہ تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے ساتھ افغانستان کے راستے پاکستان کو 3,000 میگاواٹ تک بجلی برآمد کرنے کے مواقع پیدا کرے گا۔
ترکمانستان-افغانستان انفراسٹرکچر منصوبوں میں پیش رفت
ستمبر 2024 میں تاپی منصوبے کے اہم حصے سرحت آباد-ہرات سیکشن کی تعمیر کا آغاز ہوا، تورغندی-ہرات ریلوے کے پہلے مرحلے کے تورغندی-سنابر سیکشن پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا، اور تاپ بجلی منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت صوبہ ہرات میں نورالجہاد پاور سب اسٹیشن فعال کیا گیا۔ 20 اکتوبر 2025 کو قومی رہنما گربان گلی بردی محمدوف نے افغانستان کے صوبہ ہرات کا دورہ کر کے سرحت آباد-ہرات گیس پائپ لائن کے اگلے مرحلے کا باضابطہ آغاز کیا، جبکہ تعمیر میں تیزی کے لیے بلڈوزرز، ایکسکیویٹرز، کرینوں اور پائپ لیئرز سمیت خصوصی مشینری کا بڑا بیڑا حاصل کیا گیا۔
10 اگست 2026 کو قومی رہنما نے صوبہ ماری کا ورکنگ دورہ کیا اور سرحت آباد ضلع کے اسلیم چشمہ سرحدی علاقے سے افغانستان کے ورکنگ دورے پر روانہ ہوئے۔ وہاں ان کی افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر سے دو طرفہ بات چیت ہوئی، جس میں ایندھن و توانائی کے شعبے اور بڑے علاقائی منصوبوں، خصوصاً تاپی گیس پائپ لائن، افغانستان-ترکمانستان-آذربائیجان-جارجیا-ترکی ٹرانسپورٹ راہداری اور لاجورد بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ قومی رہنما نے مشترکہ منصوبوں کے لیے قانونی فریم ورک کی تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ترکمن-افغان اقتصادی تعاون کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی۔ دورے کے دوران ریاستی ادارے ترکمن گاز اور افغان گیس کارپوریشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
پاکستان اور ترکمانستان: مربوط اور خوشحال خطے کی جانب
بریفنگ میں کہا گیا کہ ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری وسطی اور جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے وسیع امکانات کی عکاس ہے۔ تاپی، تاپ، سرحد پار ریلوے اور فائبر آپٹک روابط جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ توانائی، ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر علاقائی معاشی انضمام میں کس طرح کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے ترکمانستان کے ساتھ تعاون توانائی کی فراہمی کے تنوع، صنعتی صلاحیت میں اضافے، علاقائی روابط اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ ترکمانستان کے لیے پاکستان جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی اور توانائی برآمدی راستوں کے تنوع کے اسٹریٹجک ہدف میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار تمام شریک ممالک کے مسلسل تعاون، مؤثر ہم آہنگی، سرمایہ کاری کے حصول اور ضروری انفراسٹرکچر و ادارہ جاتی ڈھانچے کی تیاری پر ہو گا۔
بریفنگ کے اختتام پر کہا گیا کہ آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر صنعتی جدت، سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی کی ترقی، ماحولیاتی تعاون اور علاقائی رابطوں پر ترکمانستان کی توجہ اس کے بین الاقوامی ایجنڈے کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاپی اور تاپ منصوبے، ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر علاقائی انفراسٹرکچر اقدامات کے ساتھ مل کر وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔