
تاجکستان اور چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے پیر کے روز دارالحکومت دوشنبے میں صدارتی محل میں چین کے وزیر اعظم لی چیانگ سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی وزیر اعظم لی چیانگ سرکاری دورے پر تاجکستان پہنچے ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہانِ حکومت کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
ملاقات کے دوران صدر امام علی رحمان نے عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے اور اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے تاجکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے کہا کہ چین دوست ملک تاجکستان کی ترقی اور پیش رفت کی مسلسل حمایت کرتا ہے اور ترجیحی مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد میں معاونت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تجارت کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ رواں سال جنوری سے اگست کے دوران تاجکستان اور چین کے درمیان تجارتی حجم 2.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا عکاس ہے۔
ملاقات میں صنعت، توانائی، نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور زراعت سمیت اہم شعبوں میں باہمی مفاد کے نئے مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔
دونوں فریقین نے جدید ٹیکنالوجیز، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے استعمال، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے تربیت یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں تاجکستان اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق مختلف امور پر خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی گفتگو کی اور مسلسل مکالمے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔