
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے وحدت میں مچھلی پراسیسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا، برآمدات میں اضافے کا ہدف مقرر
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قومی رہنما امام علی رحمان نے 24 اکتوبر کو وحدت شہر کے رومیت دیہی علاقے میں مقامی کمپنی بہار (Bahor) کے نئے مچھلی پراسیسنگ یونٹ کا افتتاح کیا، جس کا مقصد مچھلی کی پیداوار، پراسیسنگ اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے خوور کے مطابق صدر کو بتایا گیا کہ کمپنی کی مچھلی برآمد کرنے کی صلاحیت 2026 کے اختتام تک 300 ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ 2027 میں اسے بڑھا کر سالانہ ایک ہزار ٹن کرنے کا منصوبہ ہے۔
مقامی کمپنی بہار اب تک 120 ٹن منجمد مچھلی روس برآمد کر چکی ہے۔ کمپنی نے یورپی ممالک، بالخصوص ہنگری اور انگلینڈ کو مچھلی برآمد کرنے کے لیے بھی مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ممکنہ تجارتی تعاون کے لیے کئی دیگر ممالک کو مصنوعات کے نمونے بھی بھیجے گئے ہیں۔
صدر کو بتایا گیا کہ نئے پراسیسنگ یونٹ میں 30 مقامی افراد کو مستقل روزگار فراہم کیا گیا ہے، جبکہ 2024 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کی تعمیر کے دوران 40 مقامی افراد کو عارضی ملازمتیں دی گئی تھیں۔ یونٹ 30 سوٹ (تقریباً 3,000 مربع میٹر) رقبے پر قائم کیا گیا ہے اور اس میں جدید چینی کمپنیوں کے تیار کردہ آلات نصب کیے گئے ہیں۔
دورے کے دوران صدر امام علی رحمان کو مچھلی کی صفائی، پراسیسنگ، اس سے انڈے (مچھلی کے کیویار) الگ کرنے اور مصنوعات کو منجمد کرنے کے مراحل سے آگاہ کیا گیا۔ تیار شدہ مچھلی اور اس کے انڈوں کو پیک کرنے کے بعد کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ انہیں برآمد کیا جا سکے۔
افتتاح کے بعد صدر نے مچھلی پراسیسنگ پلانٹ کے دوسرے مرحلے اور 300 ٹن گنجائش والے کولڈ اسٹوریج کی تعمیر کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور تعمیراتی کام کے آغاز کی بنیاد رکھی۔
صدر کی ہدایت پر کمپنی کے سربراہ نے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں کو معیاری اور ماحول دوست غذائی مصنوعات فراہم کرنے کے لیے جلد دارالحکومت دوشنبے میں مچھلی پراسیسنگ کا ایک بڑا کارخانہ بھی قائم کیا جائے گا۔
کمپنی بہار کے مچھلی کے تالابوں میں اس وقت ایک ہزار ٹن سے زائد مچھلی پرورش پا رہی ہے، جبکہ نئے تالابوں کی تعمیر سے پیداوار میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ کمپنی کے مچھلی فارمنگ کے شعبے میں اس وقت 500 مقامی افراد مستقل طور پر ملازمت کر رہے ہیں۔ یہاں بنیادی طور پر رینبو ٹراؤٹ اور گولڈن ٹراؤٹ کی اقسام پالی جاتی ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس کی مصنوعات عالمی معیار کے تقاضوں پر پورا اترتی ہیں اور ادارے کے پاس آئی ایس او اور حلال کے بین الاقوامی سرٹیفکیٹس بھی موجود ہیں۔
واضح رہے کہ صدر امام علی رحمان نے 8 اکتوبر 2020 کو اس مچھلی فارمنگ منصوبے کا افتتاح کیا تھا، جبکہ 10 نومبر 2022 کو بھی اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی کاروباری شخصیت سعیدمحریدین سیفوف کو مچھلی کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے، فروخت کے مراکز قائم کرنے اور مچھلی کے پکوانوں کے لیے ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز کھولنے کی ہدایات دی تھیں۔
حکام کے مطابق ان ہدایات پر عمل درآمد کے نتیجے میں بہار کمپنی نے دوشنبے، خطۂ ختلان کے شہر بوختَر اور دیگر علاقوں میں ٹراؤٹ مچھلی کی فروخت کے 10 سے زائد مراکز اور 10 ریسٹورنٹس و کھانے کے مراکز قائم کیے ہیں، جو فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔
دوشنبے میں واقع بہار فورل ریسٹورنٹ، جس کا افتتاح 16 جولائی 2024 کو صدر امام علی رحمان اور دوشنبے کے میئر رستم امام علی کی موجودگی میں کیا گیا تھا، میں بھی کمپنی کی جانب سے 150 سے زائد مستقل ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔
کمپنی نے مستقبل میں رومیت کے علاقے میں مچھلی کی فارمنگ کے مزید تالاب تعمیر کرنے اور حکومتی تعاون سے سرکاری پروگرام برائے ترقیِ ماہی پروری کے تحت دارالحکومت کی منڈیوں کو مچھلی فراہم کرنے کے ساتھ برآمدات میں اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
تاجکستان کی آزادی کی 40ویں سالگرہ کے حوالے سے کمپنی نے 2031 تک مچھلی کی پرورش کے تالابوں کی تعداد 50 تک بڑھانے، تجارتی مچھلی کی سالانہ پیداوار چار ہزار ٹن تک پہنچانے اور بڑے تالابوں میں پنجرہ نما نظام کے ذریعے مچھلی پالنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی کے بچوں کی پیداوار کو 20 لاکھ سے بڑھا کر 40 لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں میں مچھلی کی پراسیسنگ اور پیکنگ کا کارخانہ، منجمد کرنے کا یونٹ، کولڈ اسٹوریج، بڑی مقدار میں منجمد مچھلی محفوظ کرنے کے لیے گودام اور ضلع جلال الدین بلخی میں 1,500 طلبہ کی گنجائش والا اسکول نمبر 33 تعمیر کرنا بھی شامل ہے، جہاں دو شفٹوں میں تدریسی سرگرمیاں انجام دی جا سکیں گی۔
دورے کے اختتام پر صدر امام علی رحمان نے مقامی کاروباری شخصیت سعیدمحریدین سیفوف کی جانب سے علاقے کی ترقی، ماہی پروری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مچھلی کی برآمدات کے لیے جدید پراسیسنگ یونٹ قائم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے ان سرگرمیوں کو مقامی اقتصادی ترقی اور ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا۔