
وزیراعظم شہباز شریف کا دو سال میں ملک بھر کے مستحق و باصلاحیت طلبہ میں 5 لاکھ کروم بکس تقسیم کرنے کا اعلان
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو دولت یا غربت کی بنیاد پر محدود نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ذہانت اور محنت کو مالی حالات کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت آئندہ دو برسوں میں ملک بھر کے اسکولوں اور دینی مدارس کے باصلاحیت طلبہ میں 5 لاکھ کروم بکس اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا۔
اتوار کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ طلبہ میں آلات کی تقسیم کے لیے میرٹ اور محنت کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، تاکہ باصلاحیت بچوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ منتخب طلبہ کو کروم بکس کے ساتھ بیگز اور مائی فائی (MiFi) ڈیوائسز بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جن کی مدد سے وہ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے، گھر بیٹھے آن لائن کلاسز میں شرکت کر سکیں گے اور الیکٹرانک لائبریریوں سے استفادہ کر سکیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان آلات کے ذریعے وہ علم حاصل کر سکیں گے اور مستقبل میں ملک کی ممتاز اور قابل شخصیات بننے کی صلاحیت پیدا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ٹیکنالوجی کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دور میں کوئی باصلاحیت بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔
وزیراعظم نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں شروع کیے گئے لیپ ٹاپ تقسیم پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ میں میرٹ کی بنیاد پر 6 لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو مکمل کرنے میں تقریباً 10 سال لگے، تاہم اب حکومت نے دو سال کے اندر ملک بھر کے باصلاحیت طلبہ میں 5 لاکھ کروم بکس تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ آلات طلبہ کے لیے علم اور ترقی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوں گے، تاکہ وہ قابلیت اور ذہانت کے میدان میں دنیا کے کسی بھی حصے کے طلبہ سے پیچھے نہ رہیں۔
انہوں نے سابقہ لیپ ٹاپ اسکیم سے مستفید ہونے والے طلبہ کے مختلف سماجی اور معاشی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایسے بچے بھی شامل تھے جن کے والد انتقال کر چکے تھے یا جن کے والدین محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔
تقریب میں ایک طالب علم سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ جب انہوں نے بچے سے اس کے والد کے پیشے کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اس کے والد مزدور ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے معاشی حالات بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ ہر باصلاحیت بچے کو آگے بڑھنے اور اپنی قابلیت منوانے کا موقع ملنا چاہیے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کے بانی راشد منہاس کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس اقدام کے لیے مالی تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے اپنی جانب سے، حکومت اور اس پروگرام سے مستفید ہونے والے طلبہ کی طرف سے عطیہ دینے والے کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ تعاون بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ملک کے نوجوانوں اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانی محنت اور لگن کے ساتھ کام کرکے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عطیہ طلبہ کی ذہانت اور مستقبل میں آگے بڑھنے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے دیا گیا ہے، جس پر ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے دانش اسکولز پروگرام کے تحت حکومتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ایک دانش اسکول کا افتتاح کیا گیا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں مزید 27 دانش اسکول زیرِ تعمیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسکول معیاری تعلیم، قابل اساتذہ اور جدید سہولیات کے حوالے سے نمایاں ہوں گے۔ ان اداروں میں اسمارٹ بورڈز اور الیکٹرانک لائبریریوں کے علاوہ کھیلوں کے میدان، رہائشی ہاسٹلز اور کھانے کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ دانش اسکولوں میں کسی بھی بچے کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بچے کے مالی حالات اس کی تعلیم کے حصول اور روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیے جائیں گے۔