تاجکستان

تاجکستان کی قومی لائبریری آزادی کے دور کی اہم کامیابی، 10 ملین کتب محفوظ کرنے کی گنجائش

Read Time:3 Minute, 45 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان میں ریاستی آزادی کے دور کی اہم اور نمایاں کامیابیوں میں کتب خانہ داری کے شعبے میں ایک نئے قانونی، تنظیمی اور مادی و تکنیکی نظام کی تشکیل اور استحکام شامل ہے۔ اس سلسلے میں تاجکستان کی قومی لائبریری ایک بڑے علمی، تعلیمی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت سے اہم مقام رکھتی ہے اور قومی تحریری و ثقافتی ورثے کے تحفظ، جمع آوری اور فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

تاجکستان کی قومی لائبریری کی نئی عمارت کا قیام، جس میں ایک کروڑ کتابیں محفوظ کرنے کی گنجائش ہے، آزادی کے دور کی اہم ترین ثقافتی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ عظیم ثقافتی مرکز نہ صرف کتاب اور علم سے احترام کی علامت ہے بلکہ ریاست کی ثقافتی، علمی اور تعلیمی پالیسی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

قومی لائبریری سے موصولہ معلومات کے مطابق اس کے ذخیرے میں دنیا کی 63 زبانوں میں 30 لاکھ سے زائد کتب، جرائد اور مختلف مطبوعہ دستاویزات محفوظ ہیں۔ ہر سال لائبریری کے ذخیرے میں اوسطاً 35 ہزار کتب، رسائل، اخبارات، ضابطہ جاتی دستاویزات، سائنسی و تحقیقی مونوگرافس، کتابیات، انسائیکلوپیڈیاز اور دیگر معلوماتی مواد کا اضافہ ہوتا ہے۔

لائبریری کا الیکٹرانک ذخیرہ تاجک، روسی اور انگریزی زبانوں میں 330 سے زائد ادبی و علمی مواد پر مشتمل ہے، جبکہ اس کی ورچوئل خدمات سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد 57 ہزار 600 تک پہنچ چکی ہے۔

الیکٹرانک ڈیٹا بیس ’’ببلیوگرافی‘‘ میں اخبارات اور جرائد کے مضامین کے 249,217 سے زائد کتابیاتی ریکارڈ موجود ہیں۔ اس ڈیٹا کا آغاز 1929 سے ہوتا ہے اور یہ مختلف ادوار کے مطبوعہ مواد کی تلاش اور مطالعے کے لیے وسیع سہولت فراہم کرتا ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی آزادی کے برسوں کے دوران تاجکستان کی قومی لائبریری بتدریج کتابوں کے روایتی تحفظ اور ذخیرے کے ادارے سے ایک جدید، کثیرالجہتی علمی، معلوماتی، ثقافتی اور سماجی مرکز میں تبدیل ہوگئی ہے۔

تاجکستان کی حکومت کی جانب سے علم، تعلیم، ثقافت اور عوامی شعور کی ترقی پر مسلسل توجہ نے علم، کتاب اور مطالعے کے مقام کو بلند کرنے، قومی اقدار کے تحفظ اور وسیع النظر نسل کی تربیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدد اہم ریاستی اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات کے تحت ثقافتی اداروں، کتب خانوں اور دیگر تعلیمی و علمی مراکز کی سرگرمیوں نے ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوکر قومی شناخت کے استحکام، آباؤ اجداد کی تاریخ و ثقافت کے احترام اور کتاب بینی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ تاجکستان کی قومی لائبریری کو ریاستی آزادی کی 21ویں سالگرہ کے موقع پر 20 مارچ 2012 کو تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر استعمال کے لیے کھولا گیا تھا۔

قومی لائبریری کی عمارت 167 میٹر طویل اور 52 میٹر بلند ہے، جبکہ اس کا مجموعی رقبہ 45 ہزار مربع میٹر ہے۔ لائبریری میں 25 مطالعاتی ہالز موجود ہیں جن میں تقریباً 1,500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، جبکہ کتابوں اور دستاویزات کے لیے 28 ذخیرہ گاہیں اور 10 کانفرنس ہالز بھی قائم ہیں۔ یہ عمارت ایک کروڑ کتابیں محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لائبریری میں مختلف نوعیت کے مطالعاتی ہالز، کتابوں اور دیگر معلوماتی دستاویزات کے لیے محفوظ گاہیں، انتظامی دفاتر، اجلاس گاہیں، کانفرنس اور سمپوزیم ہالز، پرنٹنگ پریس، کتابوں کی مرمت کی لیبارٹریاں، مختلف شعبہ جات اور دیگر خدماتی مراکز موجود ہیں، جو عالمی معیار کے تقاضوں کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔

زیادہ تر مطالعاتی ہالز مخصوص شعبوں کے لیے مختص ہیں اور متعلقہ کتب انہی ہالز میں دستیاب ہوتی ہیں، جس سے قارئین کو سہولت حاصل ہوتی ہے۔ لائبریری کی متعدد خدمات الیکٹرانک نظام کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ قارئین اپنی نشست سے داخلی الیکٹرانک نیٹ ورک کے ذریعے مطلوبہ کتاب طلب کرسکتے ہیں اور مختصر وقت میں انہیں مطلوبہ مواد فراہم کردیا جاتا ہے۔

کانفرنسز، سمپوزیمز اور دیگر علمی و ثقافتی تقریبات کے لیے قائم ہالز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان میں اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی تقریبات حتیٰ کہ سربراہانِ مملکت کی ملاقاتیں بھی منعقد کی جاسکتی ہیں۔

تاجکستان کی قومی لائبریری ثقافتی ورثے کے تحفظ، قومی دستاویزات اور مطبوعہ مواد کے آرکائیو کے طور پر خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ملک کا مرکزی علمی، تحقیقی، سائنسی و طریقہ کار سے متعلق، معلوماتی اور ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہ ادارہ کتب خانہ داری، کتابیات اور کتاب شناسی کے شعبوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ جدید معلوماتی ٹیکنالوجیز کے نفاذ کو بھی یقینی بناتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
سمندر Previous post آرال سمندر کے طاس کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی پروگرام پر وسطی ایشیائی ممالک کا مشاورتی اجلاس
کلباجار Next post حکمت حاجییف: صدر الہام علییف کی پالیسی کے تحت کلباجار کی تعمیر نو جاری ہے