ویتنام

ویتنام نے بچوں کی جامع ترقی اور تحفظ کے لیے قومی حکمتِ عملی 2026ء تا 2035ء منظور کرلی

Read Time:5 Minute, 48 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے بچوں کی جامع نشوونما، تحفظ، فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی یقینی بنانے کے لیے 2026ء سے 2035ء تک کی قومی حکمتِ عملی منظور کرلی ہے، جس کا وژن 2045ء تک محیط ہے۔

ویتنام کی نائب وزیراعظم فام تھی تھانہ ترا نے فیصلہ نمبر 2033/QĐ-TTg پر دستخط کرتے ہوئے اس حکمتِ عملی کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں بچوں کی صحت، تعلیم، غذائیت، تحفظ اور سماجی بہبود کے شعبوں میں بہتری کے لیے ایک جامع لائحہ عمل وضع کیا گیا ہے۔

حکمتِ عملی کے مطابق ویتنام کا ہدف ہے کہ 2030ء تک تمام بچے محفوظ، صحت مند اور خوشگوار ماحول میں زندگی گزاریں، اپنے بنیادی حقوق سے مستفید ہوں اور معیاری صحت، تعلیم، تحفظ اور دیگر ضروری سہولیات تک مساوی رسائی حاصل کریں۔

اس اقدام کا مقصد بچوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشوونما کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان میں زندگی کے عملی تقاضوں سے نمٹنے کی صلاحیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھانا ہے، بالخصوص پسماندہ طبقات اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

حکمتِ عملی کے طویل المدتی وژن کے تحت 2045ء تک تمام ویتنامی بچوں کو اپنے حقوق سے مکمل استفادے اور معیاری صحت، تعلیم، ثقافت، کھیل، سماجی بہبود اور دیگر بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو ڈیجیٹل معاشرے اور عالمی انضمام کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور ملکی خوشحالی و پائیدار ترقی میں ان کے کردار کو مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

صحت، حفاظتی ٹیکہ جات اور تعلیم کے اہداف

بچوں کی صحت، غذائیت اور جسمانی نشوونما بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی میں 2030ء تک ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں کے مقابلے میں شیرخوار بچوں کی شرح اموات کو 10 سے کم اور 2035ء تک آٹھ سے کم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

قومی توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے تحت بچوں کی ویکسینیشن کی شرح 2030ء تک 95 فیصد سے تجاوز کرنے اور 2035ء تک اس سطح کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ہے۔

تعلیم کے شعبے میں 2030ء تک پری اسکول میں بچوں کے داخلے کی شرح 97 فیصد تک پہنچانے اور 2035ء تک اسے کم از کم اسی سطح پر برقرار رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مزید برآں، 2035ء تک 95 فیصد طلبہ کو زندگی گزارنے کی عملی مہارتوں اور ڈیجیٹل صلاحیتوں سے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ تکنیکی ترقی اور مستقبل کے چیلنجز سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہوسکیں۔

بچوں کے تحفظ کے اقدامات مزید مؤثر بنانے کا عزم

قومی حکمتِ عملی میں بچوں کو تشدد، جنسی استحصال، جبری مشقت، حادثات اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ غیر معمولی اور مشکل حالات سے دوچار بچوں کی ضروریات پوری کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت 2030ء تک بچوں کے خلاف تشدد اور جنسی استحصال کے واقعات میں سالانہ کم از کم پانچ فیصد کمی لانے جبکہ 2031ء سے 2035ء کے دوران اس شرح میں سالانہ تین فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح پانچ سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں چائلڈ لیبر کی شرح 2030ء تک 1.1 فیصد سے کم کرنے اور 2035ء تک اس سطح کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ہے۔

حادثات اور زخمی ہونے کے واقعات کے نتیجے میں بچوں کی اموات کی شرح بھی 2030ء تک ہر ایک لاکھ بچوں میں 12 سے کم اور 2035ء تک 11 سے کم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

حکومت کا عزم ہے کہ 2030ء تک خصوصی حالات سے دوچار تمام بچوں کو ان کی بنیادی ضروریات کے مطابق مناسب معاونت، تحفظ، مداخلتی اقدامات اور ضروری خدمات فراہم کی جائیں اور 2035ء تک اس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔

بچوں کی ثقافتی، کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں میں شرکت بڑھانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت 2030ء تک 85 فیصد کمیونز، وارڈز اور خصوصی انتظامی علاقوں میں بچوں کی سرگرمیوں کے لیے مخصوص سہولیات قائم کی جائیں گی، جبکہ 2035ء تک یہ تناسب 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے۔

بچوں کے تحفظ کے نیٹ ورک اور ڈیجیٹل نظام کی توسیع

حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو خاندانوں کی استعداد کار میں اضافہ اور بچوں کے تحفظ کے ادارہ جاتی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ شعبوں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور بچوں سے متعلق خدمات میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ویتنام کا ہدف ہے کہ 2030ء تک بچوں سے متعلق معلومات جمع کرنے، انہیں معیاری بنانے، اپ ڈیٹ کرنے، مربوط کرنے اور باہم شیئر کرنے کے نظام کو مکمل کیا جائے۔ اس نظام میں بالخصوص ان بچوں کا ڈیٹا شامل ہوگا جو تشدد، استحصال، بدسلوکی یا ترک کیے جانے کے خطرات سے دوچار ہیں یا خصوصی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو مختلف عمرانی مراحل میں بچوں کی جامع نشوونما کے لیے ضروری معلومات اور مہارتوں سے آراستہ کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس ضمن میں 2030ء تک ایسے والدین اور نگہداشت کرنے والوں کا تناسب 85 فیصد اور 2035ء تک 95 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت 2027ء تک تمام کمیونز، وارڈز اور خصوصی انتظامی علاقوں میں بچوں کے امور کے لیے ذمہ دار عملہ تعینات کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کو بچوں کے تحفظ سے متعلق اطلاعات وصول کرنے، متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا۔

اس کے ساتھ قومی چائلڈ پروٹیکشن ہاٹ لائن 111 اور ہنگامی ردعمل کے نظام تک رسائی کو 2035ء تک یقینی بنانے کا بھی منصوبہ شامل ہے۔

عمل درآمد کے لیے جامع اقدامات

مقررہ اہداف کے حصول کے لیے حکمتِ عملی میں پالیسی سازی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے، صحت اور غذائیت کی سہولیات مضبوط کرنے، تعلیمی معیار بلند کرنے اور مستقبل کی افرادی قوت کے لیے ضروری مہارتیں فروغ دینے سمیت متعدد ترجیحی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

دیگر اہم ترجیحات میں بچوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور دوستانہ ماحول کی فراہمی، ثقافتی، کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں تک رسائی میں اضافہ، ڈیجیٹل تبدیلی کا فروغ اور بچوں سے متعلق اعداد و شمار کے انتظام، نگرانی اور جائزے کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔

حکمتِ عملی میں بچوں کے حقوق اور ان کی جامع نشوونما کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے، والدین اور نگہداشت کرنے والوں کی تربیت، قانونی ذرائع سے وسائل متحرک کرنے اور بین الاقوامی تعاون کو وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ویتنام حکومت کے مطابق ان مربوط اقدامات کے ذریعے بچوں کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور نوجوان نسل کو مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے کا جامع نظام قائم کیا جائے گا تاکہ وہ ملک کی طویل المدتی خوشحالی اور پائیدار ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا ملکی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ پر زور
مراکش Next post مراکش کا روس اور افریقی ممالک کے درمیان عملی تعاون بڑھانے پر زور، افریقہ کو خارجہ پالیسی کا مرکزی محور قرار دے دیا