
صدر پرابوو کا کھیلوں کو قومی وقار کا معاملہ قرار دیتے ہوئے انڈونیشیا میں کھلاڑیوں کی تربیت کا نظام مضبوط بنانے پر زور
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے کھیلوں کو قومی وقار اور عزت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ تمام اداروں اور فریقین پر زور دیا ہے کہ ملک کے کھلاڑیوں کی تربیت اور ترقی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ انڈونیشیا عالمی کھیلوں کے میدان میں ایک نمایاں اور کامیاب ملک بن سکے۔
صدر پرابوو نے یہ بات جمعرات 29 اکتوبر کو جکارتہ کے مردیکا پیلس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں 2026 کے آئچی ناگویا ایشین گیمز اور پانچویں ایشین پیرا گیمز میں تمغے جیتنے والے انڈونیشیائی کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کھیل قومی وقار کا معاملہ ہیں اور ایک مضبوط قوم اپنے عوام کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے بقول، مضبوط عوام بلند حوصلے رکھتے ہیں اور بلند حوصلوں والی قوم کو شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔
صدر نے تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو قوم کے بہترین بیٹے اور بیٹیاں قرار دیتے ہوئے براعظمی کھیلوں کے مقابلوں میں انڈونیشیا کا وقار برقرار رکھنے کے لیے ان کی لگن، محنت اور عزم پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے عالمی اور علاقائی سطح پر ملک کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور ان کی شاندار کارکردگی قومی سطح پر پذیرائی کی مستحق ہے۔
صدر پرابوو نے انڈونیشیائی دستے کو کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے بتایا کہ ایشین گیمز میں انڈونیشیا نے مجموعی طور پر 39 تمغے حاصل کیے، جن میں 5 طلائی، 11 چاندی اور 23 کانسی کے تمغے شامل ہیں، جبکہ ایشین پیرا گیمز میں ملک نے 73 تمغے جیتے، جن میں 15 طلائی، 21 چاندی اور 37 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مقابلوں میں حاصل کردہ تمغوں کی تعداد مقررہ اہداف سے زیادہ رہی۔
تاہم، انہوں نے کھلاڑیوں اور کھیلوں کے حکام کو خبردار کیا کہ وہ ان کامیابیوں پر مطمئن ہو کر اپنی کوششیں محدود نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے چوتھے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی حیثیت سے انڈونیشیا کو مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں میں مزید بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے زیادہ محنت اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
صدر نے کہا کہ کھیلوں میں پائیدار کامیابی کے حصول کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی منظم اور طویل المدتی تربیت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر برائے نوجوانان و کھیل ایرک تھوہر کو ہدایت کی کہ پرائمری اسکول کی سطح سے ہی کھلاڑیوں کی تربیت کا جامع پروگرام تیار کیا جائے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک کے ہر ضلع میں ایک نمایاں تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے اور ذیلی ضلعی سطح پر موجود تعلیمی اداروں کو مناسب کھیلوں کی سہولیات فراہم کرکے اپ گریڈ کیا جائے، تاکہ کم عمری ہی سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جا سکے۔
تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کے لیے حکومتی مالی انعامات کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ان مراعات کو محض مالی انعامات نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ریاست کی جانب سے کھلاڑیوں کی محنت، قربانیوں اور لگن کا اعتراف اور ان کی خدمات کا احترام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بونس صرف تحائف نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی محنت اور جدوجہد کے لیے حکومتی اعتراف اور قدر شناسی کا اظہار ہیں۔
صدر پرابوو نے کھیلوں کی انتظامیہ، عہدیداروں اور متعلقہ فریقین پر بھی زور دیا کہ وہ باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مضبوط بنائیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں انڈونیشیا کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے زیادہ مؤثر حکمت عملی مرتب کریں۔
انہوں نے انڈونیشیا کو کھیلوں کے میدان میں ایک کامیاب اور نمایاں ملک بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مستقل عزم، محنت اور اعلیٰ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کی۔
صدر پرابوو نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ انڈونیشیا کو ایک کامیاب اور فاتح قوم بننا ہے، اس لیے کھلاڑی اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور مزید کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہیں۔