
ویتنام کا اقوام متحدہ میں قدرتی وسائل کے شفاف اور منصفانہ نظم و نسق کے ذریعے عالمی امن کے فروغ پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قدرتی وسائل کے نظم و نسق کو تنازعات کی روک تھام، امن کے قیام اور تنازعات کے بعد تعمیرِ نو کی کوششوں کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وسائل سے مالا مال ممالک اور مقامی آبادیوں کو اپنی قدرتی دولت سے مکمل اور جائز فوائد حاصل ہونے چاہییں۔
اقوام متحدہ میں ویتنام کے نائب مستقل نمائندے اور وزیر مشیر نگوین ہائی لو نے 22 جولائی کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں قدرتی وسائل، عالمی امن اور سلامتی کے درمیان تعلق پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
انہوں نے آسیان (ASEAN) کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قدرتی وسائل سے متعلق ہم آہنگ، شفاف اور مؤثر قواعد و ضوابط تشکیل دیے جا سکیں، جو قومی خودمختاری اور وسائل پر ممالک کے حقِ ملکیت کا مکمل احترام کریں۔
نگوین ہائی لو نے قدرتی وسائل کی فراہمی کی عالمی زنجیروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور انہیں دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل کرنے سے گریز پر زور دیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو معدنی وسائل کی پائیدار پراسیسنگ اور مؤثر استعمال کے لیے تکنیکی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ نظم و نسق کے حوالے سے ویتنام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ قدرتی وسائل امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کا مؤثر ذریعہ بنیں۔
"قدرتی وسائل کا نظم و نسق: امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد” کے عنوان سے ہونے والے اس مباحثے کی صدارت جمہوریہ کانگو کے وزیر خارجہ نے کی، جو جولائی 2026 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر بھی ہیں۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، 65 رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندوں اور متعدد علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔
سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے غیرقانونی وسائل کے استحصال کے خلاف مزید مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ عمل عدم مساوات، عدم استحکام اور تشدد کو فروغ دیتا رہے گا۔ انہوں نے قدرتی وسائل کے غیرقانونی استحصال کے خاتمے اور وسائل کی قدر کی عالمی زنجیروں میں زیادہ انصاف کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ وسائل سے مالا مال ممالک اور مقامی برادریاں اپنی قدرتی دولت کی اولین مستفید بن سکیں۔
مباحثے کے شرکاء نے بھی قدرتی وسائل کے غیر شفاف استحصال سے پیدا ہونے والے سلامتی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف، جامع اور پائیدار طرزِ حکمرانی کو عالمی امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔