ہنوئی

ہنوئی میں 15ویں اوشن ڈائیلاگ کا انعقاد، بی بی این جے معاہدے پر عملی اقدامات پر غور

Read Time:4 Minute, 22 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں جمعہ کو 15ویں اوشن ڈائیلاگ کا انعقاد ہوا، جس میں ویتنام اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 140 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس میں قومی حدود سے ماورا سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال سے متعلق بی بی این جے (BBNJ) معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو مؤثر اور منصفانہ سمندری حکمرانی کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

’’معاہدے سے عملی اقدامات تک: منصفانہ اور مؤثر سمندری حکمرانی کے لیے بی بی این جے کا نفاذ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ڈائیلاگ کا مشترکہ اہتمام ویتنام کی ڈپلومیٹک اکیڈمی، فاؤنڈیشن فار ایسٹ سی اسٹڈیز (FESS)، کونراڈ ایڈیناور اسٹفٹنگ (KAS) اور ویتنام میں آسٹریلوی سفارتخانے نے کیا۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) کے تحت قومی حدود سے ماورا علاقوں میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال سے متعلق بی بی این جے معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو ٹھوس قانونی، ادارہ جاتی اور باہمی تعاون کے فریم ورک میں تبدیل کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ویتنام کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کی نائب صدر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نگوین تھی لان انہ نے کہا کہ بی بی این جے معاہدے نے قومی حدود سے ماورا علاقوں میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دینے میں مدد دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ بی بی این جے معاہدہ UNCLOS کے فریم ورک کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے اس پر عملدرآمد UNCLOS اور موجودہ عالمی، علاقائی اور شعبہ جاتی تعاون کے طریقہ کار سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر لان انہ نے زور دیا کہ معاہدے کے مؤثر نفاذ کا آغاز قومی سطح سے ہونا چاہیے، جسے بین الاقوامی تعاون، سائنس اور ٹیکنالوجی کی معاونت حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے 28 جولائی 2026 کو جاری کی گئی قرارداد نمبر 20-NQ/TW میں ویتنام کو ایک مضبوط بحری ملک بنانے اور ترقی دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جدید سمندری حکمرانی، بحری سائنس و ٹیکنالوجی اور صحت مند و پائیدار سمندری ماحول پر بھی زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ترجیحات بی بی این جے معاہدے کے نفاذ کے مقاصد سے ہم آہنگ ہیں اور UNCLOS سمیت بین الاقوامی قانون سے ویتنام کے عزم کی توثیق کرتی ہیں۔

ویتنام میں آسٹریلیا کی سفیر گیلین برڈ نے کہا کہ رواں سال کے اوشن ڈائیلاگ کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سمندر اور سمندری ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور آلودگی سمیت بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ایک صحت مند، محفوظ اور پائیدار سمندر کو ملکی خوشحالی اور سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔

سفیر گیلین برڈ نے بتایا کہ آسٹریلیا بی بی این جے معاہدے کی توثیق کرنے اور جنوری 2027 میں اس کے فریق ممالک کے پہلے اجلاس میں بطور ریاستی فریق شرکت کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا خطے کے ممالک کو معاہدے پر عملدرآمد کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کرے گا، جس میں سمندری محفوظ علاقوں، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں اور سمندری حکمرانی کے شعبوں میں تجربات کا تبادلہ شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کے اقدامات میں 160 ملین آسٹریلوی ڈالر کا ’’ساؤتھ ایسٹ ایشیا میری ٹائم سکیورٹی پارٹنرشپس‘‘ پروگرام بھی شامل ہے، جس کا مقصد ویتنام اور خطے کے دیگر شراکت داروں کو سمندری تعاون، حکمرانی اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

دریں اثنا، ویتنام میں کونراڈ ایڈیناور اسٹفٹنگ کے نمائندے لیوے پال نے کہا کہ جرمنی سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، سمندری ماحول کے تحفظ اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے استحکام کو بین الاقوامی تعاون کے اہم شعبے سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی نے بی بی این جے معاہدے کے لیے مذاکرات میں فعال کردار ادا کیا اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس کے مؤثر نفاذ کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

لیوے پال نے بتایا کہ جرمنی نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل اور اپنے داخلی قانونی فریم ورک کو تیار کرنے کے لیے متعلقہ قانون سازی تیار، ترمیم اور منظور کی ہے، جس میں بی بی این جے معاہدے کی توثیق سے متعلق قانون اور اس کے نفاذ سے متعلق قانون سازی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوشن ڈائیلاگ مختلف نقطہ ہائے نظر کے تبادلے، قانون کو پالیسی سے، بین الاقوامی وعدوں کو قومی سطح پر عملدرآمد سے اور سائنس کو پالیسی سازی سے جوڑنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

اجلاس میں 10 ممالک سے 17 بین الاقوامی مندوبین، ویتنام میں غیر ملکی سفارتی مشنز کے تقریباً 40 نمائندوں اور ویتنام کے مرکزی سرکاری اداروں، تحقیقی اداروں، جامعات اور میڈیا تنظیموں سے تقریباً 80 نمائندوں نے شرکت کی۔

15ویں اوشن ڈائیلاگ کو تین اجلاسوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں ’’بی بی این جے معاہدے کو قومی قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک سے ہم آہنگ کرنا‘‘، ’’بی بی این جے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی تعاون کو عملی شکل دینا‘‘ اور ’’بی بی این جے کے مؤثر نفاذ کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار اور معاون فریم ورک‘‘ شامل تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پاکستان Previous post پاکستان میں روسی سفارتخانے کی کوہاٹ پولیس لائنز پر مہلک دہشت گرد حملے کی مذمت
آذربائیجان Next post آذربائیجان میں تاجک سفیر کی کلین انرجی سینٹر کی سربراہ سے ملاقات، قابلِ تجدید توانائی میں تعاون پر تبادلہ خیال