ویتنام

ویتنام میں پائیدار ایوی ایشن فیول کے بڑے مرکز بننے کی صلاحیت، ماہرین کی جانب سے پالیسی معاونت پر زور

Read Time:3 Minute, 26 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام میں پائیدار ایوی ایشن فیول (SAF) کے جنوب مشرقی ایشیا میں ایک بڑے پیداواری مرکز بننے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس موقع سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پالیسی معاونت ناگزیر ہوگی۔

عالمی سطح پر فضائی صنعت کاربن اخراج میں کمی کے لیے پائیدار ایندھن کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہے، تاہم اس عمل کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے میں اہم چیلنجز درپیش ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عالمی فضائی صنعت سالانہ تقریباً 380 ملین ٹن ایندھن استعمال کرتی ہے، جبکہ پائیدار ایوی ایشن فیول کی پیداوار 2 ملین ٹن سے بھی کم ہے، جو مجموعی طلب کا صرف 0.5 فیصد ہے۔

ایشیاء سسٹین ایبل ایوی ایشن فیول ایسوسی ایشن کے بانی اور سی ای او فابریس ایسپینوسا کے مطابق 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کے ہدف کے حصول کے لیے SAF کو فضائی ایندھن کے استعمال کا 60 سے 70 فیصد حصہ بننا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے آئندہ دو دہائیوں میں SAF کی پیداوار میں 100 گنا سے زیادہ اضافہ درکار ہوگا، جو محض توانائی کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑی صنعتی تبدیلی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ASEAN ممالک 2030 تک 5 فیصد SAF استعمال کا ہدف حاصل کر لیتے ہیں تو خطے کو سالانہ 8 سے 10 ملین ٹن SAF کی ضرورت ہوگی، جس سے 25 ارب امریکی ڈالر تک کی مارکیٹ تشکیل پا سکتی ہے۔

فابریس ایسپینوسا نے کہا کہ SAF سپلائی چین کی عالمی دوڑ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے بروقت اقدامات کے ذریعے اہم مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام میں بایوماس وسائل، ریفائننگ صلاحیت، انفراسٹرکچر اور ایشیا پیسفک خطے میں اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسے نمایاں فوائد موجود ہیں، جو اسے اس ابھرتی ہوئی صنعت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

ویتنام نے اس شعبے میں ابتدائی اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں ملک نے SAF استعمال کرتے ہوئے پہلی ملکی پروازیں کیں، جبکہ جون 2025 میں نگی سون ریفائنری نے SAF کی پہلی تجارتی کھیپ برآمد کی۔ اسی دوران اسکائیپیک نے دا نانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ویتنام ایئرلائنز کی پروازوں کو SAF فراہم کرنا شروع کیا۔

دا نانگ پیپلز کمیٹی کے نائب چیئرمین ہو کوانگ بوئی کے مطابق یہ ابتدائی اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ ویتنام میں SAF ویلیو چین کے مختلف حصے ایک دوسرے سے منسلک ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیداوار، سپلائی نیٹ ورک اور تجارتی آپریشنز میں عملی پیش رفت نے اس شعبے کی ابتدائی فزیبلٹی ثابت کر دی ہے۔

دا نانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نائب ڈائریکٹر لی ہوائی نام نے بتایا کہ ہوائی اڈہ گرین A-CDM ماڈل پر کام کر رہا ہے تاکہ زمین پر طیاروں کے انجن کے غیر ضروری وقت کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پروازوں کے راستوں اور ایئر ٹریفک مینجمنٹ کی بہتری سے فوری توانائی کی بچت ممکن ہے، جبکہ رن وے آپریشنز کو ون وے سرکولر نظام میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکے۔

ویتنام کی وزارت صنعت و تجارت کے تحت ادارہ برائے اختراع کے نائب ڈائریکٹر ڈاؤ دوئی اینہ نے کہا کہ بایو فیول کی ترقی ملکی معیشت کے استحکام میں مدد دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام کو خام مال کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی ترقی، تقسیم کے نظام اور ایئرلائنز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے لیے مربوط پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نائب ڈائریکٹر ڈو ہونگ کم کے مطابق عالمی SAF مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2034 تک اس کی مالیت 40 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2025 میں 2.7 ارب ڈالر تھی۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ SAF اب بھی عالمی ایوی ایشن ایندھن کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے، جبکہ پیداوار اور پالیسی اہداف کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق SAF کی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر مضبوط پالیسی فریم ورک، مالی مراعات، کاربن مارکیٹ کی مضبوطی اور مقامی سپلائی چین کی ترقی ناگزیر ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
معرکۂ حق Previous post معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ: جی ایچ کیو میں خصوصی تقریب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قوم کے اتحاد اور کامیابی پر خطاب
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا میں ’’ریڈ اینڈ وائٹ‘‘ پروگرام کے تحت 16 مئی کو ایک ہزار دیہی کوآپریٹو اداروں کا آغاز کیا جائے گا