
ویتنام نے امریکی سرمایہ کاروں کو مزید سرمایہ کاری کی دعوت دے دی
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے قائم مقام نائب وزیر اعظم فام جیا تُک نے امریکی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ویتنام میں اپنی سرمایہ کاری اور طویل المدتی کاروباری موجودگی کو مزید وسعت دیں، جبکہ حکومت نے شفاف، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
جمعہ کے روز ویتنام میں سرگرم امریکی کاروباری انجمنوں اور کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی صدارت کرتے ہوئے فام جیا تُک نے امریکی کاروباری برادری کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے ویتنام کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جبکہ ویتنام اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اہم تعاون فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری پر مبنی تعاون دونوں ممالک کی شراکت داری کا بنیادی ستون ہے۔ ان کے مطابق متعدد امریکی کمپنیاں طویل عرصے سے ویتنام میں کام کر رہی ہیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، افرادی قوت کی تربیت، صنعتی صلاحیت میں اضافے اور ویتنام کو علاقائی و عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
قائم مقام نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ویتنامی حکومت امریکی کمپنیوں کو صرف سرمایہ کار یا تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی اور گرین ٹرانزیشن جیسے شعبوں میں ملک کی ترقی کے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات جاری رکھی جائیں گی، انتظامی طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے گا، کاروباری اداروں کے قانونی حقوق و مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور پالیسی سازی کو زیادہ مربوط، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی بنایا جائے گا۔
فام جیا تُک نے بتایا کہ انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری امور کی تکمیل کے دورانیے اور ضابطہ جاتی اخراجات میں 50 فیصد سے زائد کمی لائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات ایک مسلسل عمل ہیں، جن کا مقصد بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ نظام تشکیل دینا اور ملکی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
اس موقع پر امریکی کاروباری نمائندوں نے ویتنامی حکومت کی ان حالیہ پالیسیوں کا خیرمقدم کیا جن کا مقصد نئی اقتصادی ترقی کے محرکات پیدا کرنا ہے، بالخصوص پولیٹ بیورو کی قرارداد نمبر 10-NQ/TW، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے شعبے کی ترقی سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور ملک میں کاروباری توسیع کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
امریکی کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے نجی شعبے کے ساتھ باقاعدہ اور براہِ راست مکالمے کی روایت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری مسائل اور پالیسی تجاویز پر مؤثر انداز میں غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔
امریکی کمپنیوں کے نمائندوں نے ویتنام کی طویل المدتی اقتصادی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کی تربیت اور مقامی ویلیو چینز میں گہری شمولیت کے ذریعے ویتنام کے اسٹریٹجک ترقیاتی اہداف، خصوصاً دو ہندسوں پر مشتمل اقتصادی ترقی کے ہدف کے حصول میں تعاون جاری رکھیں گے۔
تاہم انہوں نے ٹیکنالوجی، تجارت، ٹیکس، ہوا بازی، توانائی، بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور خدمات کے شعبوں میں بعض ضابطہ جاتی اور پالیسی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ پالیسیوں میں مزید تسلسل اور پیش گوئی، انتظامی امور میں تیزی اور قوانین کی تیاری و نفاذ کے دوران نجی شعبے سے وسیع مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں ویتنامی وزارتوں اور سرکاری اداروں کے نمائندوں نے اپنے متعلقہ شعبوں سے متعلق سوالات اور تجاویز کا جواب دیا، جبکہ اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ بعض سفارشات پر مختلف اداروں کے درمیان مزید مشاورت اور اعلیٰ حکام کی منظوری درکار ہوگی۔ انہوں نے کاروباری برادری کے ساتھ تعمیری مکالمہ جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اجلاس کے اختتام پر فام جیا تُک نے کہا کہ کاروباری برادری کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا حل عملی اقدامات، واضح ذمہ داریوں اور متوازن پالیسی سازی کے ذریعے نکالا جانا چاہیے تاکہ ریاست، کاروباری شعبے اور عوام کے مفادات کا یکساں تحفظ ممکن بنایا جا سکے، جبکہ تمام اقدامات ویتنامی قوانین، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور طویل المدتی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔
انہوں نے امریکی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی مالی استعداد، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر کارپوریٹ نظم و نسق اور عالمی کاروباری نیٹ ورک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویتنام کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائیں۔ انہوں نے امریکی کاروباری برادری سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ویتنام میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع اور اصلاحاتی اقدامات کو عالمی سطح پر مثبت اور معروضی انداز میں اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاروں کے اعتماد اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دے۔
فام جیا تُک نے اس امید کا اظہار کیا کہ ویتنام میں امریکی کمپنیوں کی مسلسل کامیابی نہ صرف ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوگی بلکہ ویتنام۔امریکہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں زیادہ مؤثر، وسیع اور دیرپا دوطرفہ تعاون کی راہ بھی ہموار کرے گی۔