
ویتنام کے قومی ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک کو ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے حکمرانی کا ذریعہ بنانے پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم ہو کووک زنگ نے کہا ہے کہ ویتنام کے قومی ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک کو ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک مؤثر حکمرانی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، جبکہ اس پر عمل درآمد کا مقصد رابطہ کاری، ڈیٹا شیئرنگ، باہمی مطابقت اور مشترکہ ڈیجیٹل اجزا کے استعمال کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے یہ بات منگل کو گورنمنٹ آفس میں منعقدہ ایک کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں وزیراعظم کی جانب سے 29 جولائی کو جاری کردہ فیصلہ نمبر 1425/QĐ-TTg کے تحت قومی ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک (ورژن 1.0) کے نفاذ اور آگاہی کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ فریم ورک پر عمل درآمد محض رسمی کارروائی یا قواعد کی پابندی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ٹھوس، مربوط اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزارتوں، شعبوں اور مقامی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کرتے ہوئے قومی فریم ورک کے مطابق رابطہ کاری، باہمی مطابقت، ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ ڈیجیٹل اجزا کے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی، معلومات کے تحفظ اور ڈیٹا کی سلامتی کو بھی ترجیح دینے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک کو ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے حکمرانی کے ایک آلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس پر عمل درآمد کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگایا جائے کہ آیا اس کے نتیجے میں غیر ضروری اور دہرے سرمایہ کاری کے اخراجات میں کمی، وسائل کا مؤثر استعمال، سکیورٹی میں بہتری اور شہریوں و کاروباری اداروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔
نائب وزیراعظم نے پورے سیاسی نظام میں متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ’’تین عدم‘‘ کے اصول پر عمل کریں: عمل درآمد کی مکمل ذمہ داری صرف آئی ٹی محکموں پر نہ چھوڑی جائے، اسے محض قواعد کی تکمیل کی مشق نہ سمجھا جائے اور کارروائی کے لیے آخری وقت تک انتظار نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فریم ورک پر عمل درآمد کو عملی ضروریات سے ہم آہنگ رکھا جائے اور ایسے موجودہ نظاموں اور مؤثر ثابت ہونے والے نتائج سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے جنہیں پہلے ہی کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی سرمایہ کاری صرف ضرورت کی بنیاد پر ہونی چاہیے، قومی ڈیجیٹل آرکیٹیکچر کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو اور موجودہ نظاموں کی نقل سے گریز کیا جائے۔
ہو کووک زنگ نے مزید کہا کہ سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ، ذاتی ڈیٹا، رازداری اور ریاستی رازوں کا تحفظ نظام کے ڈیزائن کے مرحلے سے لے کر مکمل عمل درآمد تک یقینی بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم کے فیصلے کے تحت تمام متعلقہ اداروں اور تنظیموں کو 29 جنوری 2027 تک نئے ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک مکمل کرنے یا اپنے موجودہ فریم ورک کا جائزہ لے کر اسے اپ ڈیٹ اور باضابطہ طور پر نافذ کرنا ہوگا۔
وزارت سائنس و ٹیکنالوجی (MoST) کو اپنی ذمہ داری کے دائرہ کار میں اداروں اور تنظیموں کے لیے ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک کی تیاری، اپ ڈیٹ اور دیکھ بھال سے متعلق رہنما اصول مکمل کرکے جاری کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارتِ عوامی سلامتی (MPS) اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عمل درآمد کی نگرانی اور جائزے کے لیے طریقہ کار، کلیدی کارکردگی کے اشاریے، جائزے کے معیار، رپورٹنگ نظام، چیک لسٹس اور ضروری فارم بھی تیار کرے گی۔
اس کے علاوہ وزارت ملک بھر میں باہمی مطابقت، انضمام اور سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے معیارات، تکنیکی ضوابط اور رہنما اصولوں پر مشتمل مشترکہ فریم ورک بھی تیار کرے گی۔
وزارتِ عوامی سلامتی کو قومی ڈیٹا آرکیٹیکچر فریم ورک، قومی ڈیٹا گورننس و مینجمنٹ فریم ورک، مشترکہ ڈیٹا ڈکشنری اور قومی سائبر سکیورٹی آرکیٹیکچر فریم ورک کی تیاری اور اپ ڈیٹ کی قیادت کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ تمام فریم ورک قومی ڈیجیٹل آرکیٹیکچر فریم ورک سے ہم آہنگ اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔
وزارتِ عوامی سلامتی موجودہ قانونی اور تکنیکی مواد کا بھی جائزہ لے گی اور عمل درآمد میں سہولت کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی، جبکہ نامکمل شعبوں کو مکمل کرنے کے لیے روڈ میپ بھی تیار کرے گی۔
صوبائی سطح کی عوامی کمیٹیوں کو بھی 29 جنوری 2027 تک نئے ڈیجیٹل گورنمنٹ آرکیٹیکچر فریم ورک مکمل کرنے یا موجودہ فریم ورک کا جائزہ لے کر اسے اپ ڈیٹ اور نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامی اکائیوں کی تنظیم نو یا انضمام کے نتیجے میں قائم ہونے والے مقامات کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے موجودہ نظاموں کو یکجا کرنے، مربوط کرنے اور ان کا تسلسل برقرار رکھنے کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ حکام کو ڈیٹا، صارف اکاؤنٹس، رابطہ کاری، معاہدوں، اثاثوں، بنیادی ڈھانچے اور منتقلی کے منصوبوں کا جامع جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ حکومتی امور اور عوامی خدمات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔